پاکستانی مزدوروں پر افغانستان میں تشدد، طورخم بند

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 08:10 GMT 13:10 PST

پاکستانی حکام نے دو پاکستانی مزدوروں پر افغان سکیورٹی فورسز کے تشدد کے خلاف طورخم کی افغان پاکستان سرحد بند کر دی ہے۔

حکام کے مطابق جمعہ کے روز دو مزدور افغانستان میں مزدوری کے بعد واپس پاکستان آ رہے تھے کہ افغان سکیورٹی فورسز نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں مارا پیٹا۔

حکام کے مطابق ان دونوں مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مزدوروں کے سفری دستاوازات بھی پھاڑ دیے گئے۔

اس واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے طورخم بند کردیا ہے۔

طورخم بند کیے جانے کے باعث سرحد کے دونوں طرف ٹرکوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

یاد رہے کہ بائیس دسمبر کو بھی پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر انتیس پاکستانی مزدوروں کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز نے بدسلوکی کی اور انہیں مارا پیٹا تھا۔ اس واقعے پر دفتر خارجہ نے افغان حکومت سے سخت احتجاج کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے طورخم کی افغان پاکستان سرحد بند کر دی گئی تھی۔

دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے شدید احتجاج کیا تھا اور کابل میں پاکستانی سفیر نے بھی حکومت پاکستان کی جانب سے ایسے ہی احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام پاکستانیوں کے پاس درست سفری دستاویزات تھیں جس کے باوجود ان سے بد سلوکی کی گئی۔

پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے اس میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔