یوٹیوب کھلنے کے دو گھنٹے بعد پھر بند

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 14:01 GMT 19:01 PST

پاکستان میں یوٹیوب کو رواں برس اٹھارہ ستمبر کو پیغمبر اسلام کے خلاف بننے والی توہین آمیز فلم کےخلاف مظاہروں کے بعد بند کیا گیا تھا

پاکستان میں یو ٹیوب پر کئی ماہ سے عائد پابندی ختم ہونے کے صرف دو گھنٹے بعد ہی پہلا حکم واپس لیتے ہوئے یو ٹیوب پر ایک مرتبہ پھر پابندی لگانے کا حکم جاری کر دیاگیا ہے۔

سنیچر کو سہ پہر کے وقت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی( پی ٹی اے) نے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی وزارت کی جانب سے ایک حکم نامہ وصول ہونے کے بعد یو ٹیوب تک رسائی پر پابندی ختم کر دی تھی۔ مگر اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد اس حکم نامے کو واپس لے لیا گیا اور یو ٹیوب ایک مرتبہ پھر پابندی کی زد میں آگئی۔

یاد رہے کہ جمعہ کی رات پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ خبر دی تھی کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں یو ٹیوب ویب سائٹ تک رسائی ممکن ہو جائے گی ’اور اس بارے میں ایک حکم نامہ کی توقع آج ہی (یعنی جمعہ کی رات) ہی رکھی جائے۔‘

تاہم جب جمعہ کی رات جب بی بی سی نے وزیر اعظم کے دفتر سے صورتِ حال جاننے کی کوشش کی تو کہا گیا کہ اس طرح کے کسی بھی معاملے کے زیر غور ہونے سے لاعلمی ظاہر کی گئی۔

"ہمیں سنیچر کو (پاکستانی وقت کے مطابق) دو بج کر اٹھائیس منٹ پر آئی ٹی اینڈ ٹی کی وزارت سے یہ ہدایت ملی کہ یو ٹیوب کی ویب سائٹ کو تا حکمِ ثانی کھول دیں تو ہم نے اس سائٹ پر عائد پابندی ختم کر دی۔"

پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ سجاد لطیف

دوسری جانب پی ٹی ے کے اعلیٰ حکام نے اس بات کی تصدیق تو کی مگر انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں وزیر داخلہ کو بتایا گیا تھا کہ اس بارے میں حتمی حکم نامہ وزیر اعظم ہی جاری کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ پابندی لگانے کا حکم دیا تھا۔

پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ سجاد لطیف اعوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں سنیچر کو (پاکستانی وقت کے مطابق) دو بج کر اٹھائیس منٹ پر آئی ٹی اینڈ ٹی کی وزارت سے یہ ہدایت ملی کہ یو ٹیوب کی ویب سائٹ کو تا حکمِ ثانی کھول دیں تو ہم نے اس سائٹ پر عائد پابندی تا حکمِ ثانی ختم کر دی۔‘

انھوں نے مزید کہ ’چار بج کر بتیس منٹ پر ایک اور حکم نامہ موصول ہوا کہ آپ اس ویب سائٹ کو دوبارہ بند کر کے ہمیں عملدرآمد کی رپورٹ دیں۔ چنانچہ ہم نے اس سائٹ تک رسائی پانچ منٹ میں بند کر کے انہیں عملدرآمد کی رپورٹ دے دی۔‘

سجاد لطیف اعوان نے کہا اس ویب سائٹ پر بندش کا خاتمہ بھی ان کے لیے اچانک تھا اور پھر اس حکم نامے کی واپسی بھی اچانک تھی اور ’میں نے جب اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو مجھے بتایا گیا کہ اس بارے میں ہدایت ہے کہ یہ حکم نامہ واپس لے لیا جائے۔‘

یو ٹیوب کھولنے اور پھر بند کر دیے جانے کے عمل پر تبصرے کے لیے جب وزیر اعظم کے دفتر کے ایک اہلکار سے بات کی گئی تو وہاں سے مختصر جواب میں یہ کہا گیا کہ ’بعض افراد نے یہ حکم نامہ جاری کروایا اور جب اس بارے میں حقیقت سامنے آئی تو وزیر اعظم نے اسے واپس لے لیا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔