بہتر حالات کے باوجود بحالی کا کام نہ ہونے کے برابر

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 03:54 GMT 08:54 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لیے سال دو ہزار بارہ، نسبتاً پرُامن ثابت ہوا

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لیے سال دو ہزار بارہ اُس سے پچھلے سال کی نسبت پرُامن ثابت ہوا البتہ دہشتگردی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بحالی کا کام نہ ہونے کے برابر رہا۔

اگرچہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے باضابطہ طور پر بڑا آپریشن نہیں کیا لیکن قبائلی علاقوں میں وقفے وقفے سے چھوٹے پیمانے پر غیر اعلانیہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔ دو ہزار بارہ کے دوران اِن علاقوں میں متحرک شدت پسند گروہوں کے ایک دوسرے پر حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔

طالبان کے مختلف دھڑوں نے سرعام اپنے اختلافات کا اظہار نہیں کیا لیکن نومبر میں جب جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر ملا نذیر پر خودکش حملہ ہوا تو پاکستانی طالبان اور افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے طالبان کے درمیان اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

ملا نذیر اس حملے میں محفوظ رہے۔ مقامی انتظامیہ نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا جس کی کمان حکیم اللہ محسود کے ہاتھوں میں ہے۔ ملا نذیر اور حافظ گل بہادر کے گروہ کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے خدشات کی وجہ سے جنوبی وزیرستان کے وزیر قبائل، محسود قبائل کو علاقے سے باہر نکالنے پر مجبور ہو گئے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران، دونوں گروہوں نے باہمی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کے جاسوس طیاروں کے حملے بھی تواتر کے ساتھ جاری رہے۔ دو ہزار بارہ میں امریکہ نے غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ، طالبان کے اہم مقامی کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایا جن میں مُلا نذیر گروپ کے کمانڈر حکیم اللہ؛خان محمد؛آمیر حمزہ؛شمس اللہ کی ہلاکتیں قابلِ ذکر ہیں۔

خفیہ ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کے الزام میں درجنوں لوگ گولیوں کی بھینٹ چڑھےساتھ ساتھ ایسے لوگوں کی لاشیں بھی ملتی رہیں جو فوجی کارروائیوں کے دوران لاپتہ ہوئے تھے۔

ایسے زیادہ تر واقعات خیبر ایجنسی میں پیش آئے۔ یہ پُراسرار ہلاکتیں، نہ صرف طالبان کے گروہوں کے اندرونی اختلافات کا پیش خیمہ تھیں بلکہ مبصرین کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی طرف بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔

"قبائلی علاقوں میں اس سال پہلے کے نسبت تباہی کے کم واقعات ہوئے ہیں لیکن پہلے سے تباہ ہونے والی ہر چیز مزید تباہ ہونے لگی ہے۔زراعت کی تباہی وجہ سے شہریوں کی اقتصادی حالت بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سکول، ہسپتال حتی کہ فاٹا کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے اور یہ سارے ادارے مزید ہی تباہ ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا فاٹا کی سیاسی کردار بھی پوری دُنیا میں بدنام ہوا ہے۔"

ڈاکٹر اشرف علی، فاٹا ریسرچ سنٹر

قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سالہا سال سے غیر اعلانیہ آپریشن ہوتا رہا ہے۔ اس سال سکیورٹی فورسز کے دستے طالبان کے گڑھ کہلانے والے علاقوں میں داخل ہوئے جس میں سکیورٹی فورسز کو کافی جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں متاثرین بدستور ہنگو اور دیگر مقامات پر پناہ گزین کمیپوں میں مقیم ہیں۔

فاٹا ریسرچ سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر اشرف علی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اس سال پہلے کے نسبت تباہی کے کم واقعات ہوئے ہیں لیکن پہلے سے تباہ ہونے والی ہر چیز مزید تباہ ہونے لگی ہے۔زراعت کی تباہی وجہ سے شہریوں کی اقتصادی حالت بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سکول، ہسپتال حتی کہ فاٹا کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے اور یہ سارے ادارے مزید ہی تباہ ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا فاٹا کی سیاسی کردار بھی پوری دُنیا میں بدنام ہوا ہے۔

اورکزئی سے ملحقہ خیبر ایجنسی میں بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں۔ اس ایجنسی میں گزشتہ کئی سالوں سے دو مذہبی تنظمیں لشکر اسلام اور اانصارالاسلام کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ البتہ یہاں پر طالبان کی کارروائیوں میں بظاہر کمی واقع ہوئی ہے۔ وقتاً فوقتاً افغانستان میں نیٹو کے لیے سامان لے جانے والے آئل ٹینکرز اور دوسری گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

قبائلی علاقے مہند ایجنسی میں غیر اعلانیہ فوجی کارروائیاں نسبتاً کم ہوئیں۔اس ایجنسی کی مختلف تحصیلوں میں شدت پسندوں نے کارروائی کر کے سب سے زیادہ سکولوں کو تباہ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک تباہ کیے جانے والے سکولوں کی تعداد سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔

کُرم ایجنسی اس سال بھی سُنی اورشیعہ فرقہ واریت کی زد میں رہی جس کی وجہ سے تجارت پیشہ لوگ اور ایجنسی سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم سینکڑوں طلباء متاثر ہوئے۔البتہ اس سال ٹل سے پاڑہ چنار جانے والی اہم شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیاگیا جو کئی سالوں سے بند پڑی تھی۔

سال کی آخری سہ ماہ میں پہلے سوات میں ملالہ یوسفزئی پر حملے اور پھر دسمبر میں خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر بشیر بلور کی خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے مطالبے نے پھر سر اٹھایا۔

آپریشن کے ان مطالبات کے ساتھ ساتھ طالبان کی جانب سے بھی سال کے آخر میں حکومت سے مشروط مذاکرات کی پیشکش بھی سامنے آئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دو ہزار تیرہ میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور پاکستانی حکومت آپریشن اور مذاکرات میں سے کس آپشن کا انتخاب کرتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔