سپریم کورٹ نے اکاؤنٹس کمیٹی کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST

سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ نے عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روک دیا ہے اور اس ضمن میں کمیٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو بھیجے جانے والا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکن بینچ نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس ضمن میں دائر کی جانے والی آئینی درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ججوں کے رویے اور اُن کے انتظامی احکامات کو کسی بھی فورم پر زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔

درخواست گُزار محمود الحسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو طلب کرنا عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا مقصد عدلیہ کو کمزور کرنا ہے جب کہ اس ضمن میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس کا آڈٹ ہوتا رہتا ہے اور اس میں کوئی بدعنوانی نہیں پائی گئی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اور درخواست گُزار کے ابتدائی دلائل غور طلب ہیں۔

عدالت نے اس درخواست کی سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کردیا ہے۔

یاد رہے کہ ندیم افضل چن کی سربراہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کثرت رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین اگر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوئے تو اُن کے بارے میں پارلیمنٹ کو سفارش کی جائے گی کہ اُن کے خلاف ریفرنس بھجوائے۔

اس کمیٹی کے گُذشتہ اجلاس کے دوران حکومتی اتحاد میں شامل ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا تھا کہ کمیٹی کے چیئرمین سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں۔

"پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو طلب کرنا عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔"

درخواست گُزار محمود الحسن

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مستفی ہونے والے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے اجلاس میں رائے دی تھی کہ سمن جاری کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار پر سپریم کورٹ کا سارا بجٹ ڈال دیا جائے کہ اُنہوں نے خردبرد کیا ہے، لیکن کمیٹی نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن سمیت متعدد ارکان نے سپریم کورٹ رجسٹرار کو سمن جاری کرنے کی مخالفت کی تھی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایک ایسا سمن معطل کیا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ اپنی بالادستی کو تسلیم کروا سکے۔ طارق محمود کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عوام پارلیمنٹ کے ساتھ نہیں بلکہ عدلیہ کے ساتھ ہیں، کیونکہ پارلیمنٹ یا موجودہ حکومت عوامی توقعات پر پوار نہیں اُتریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔