شاہ زیب قتل کیس: چیف جسٹس کا از خود نوٹس

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 17:51 GMT 22:51 PST

شاہ زیب کو 25 دسمبر کو کراچی کے ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا

پاکستان کے چیف جسٹس محمد افتخار چودھری نے کراچی میں طالب علم شاہ زیب خان کے قتل پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی انکوائری رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے منگل کو سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور صوبائی پولیس چیف کو عدالت میں چار جنوری کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور صوبائی پولیس چیف کو حکم دیا ہے کہ وہ کیس کی رپورٹ اور تفتیش کے بارے میں آگاہ کریں۔

یاد رہے کہ بیس سالہ شاہ زیب کی ہلاکت کو ایک ہفتہ ہو گیا ہے لیکن ابھی تک پولیس کو تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی۔

شاہ زیب کو 25 دسمبر کو کراچی کے ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

سندھ پولیس نے قتل کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم کمیٹی نے ابھی تک کسی کو حراست میں نہیں لیا۔

شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احجاج کیے گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔