ملالہ کے والد برمنگھم قونصلیٹ میں اتاشی مقرر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 20:08 GMT 01:08 PST

صدر آصف علی زرداری نےبرمنگھم کے کوئین ہسپتال میں ملالہ یوسفزئی سے ملاقات کی تھی

حکومت پاکستان نے طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پندرہ سالہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیا ہے۔

ملالہ یوسفزئی آٹھ دسمبر سے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی حالت بہتر ہونے کے بعد ان کے دماغ کا آپریشن ہو گا۔

حکومتِ پاکستان کے اعلان کے مطابق ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیاگیا ہے ۔ ان کی مدتِ ملازمت تین سال کے لیے ہے۔

پندرہ سالہ ملالہ یوسفزئی نو اکتوبر کو طالبان کے ایک حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ گولی ان کے سر میں لگی لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گولی ان کی کھوپڑی کو چھو کرگزر گئی ہے ۔

ملالہ یوسفزئی کے والد کا مینگورہ میں اپنا سکول ہے جہاں ان کی اپنی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی۔

ملالہ یوسفزئی پرحملے کے بعد طالبان کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آٹھ دسمبر کو برمنگھم میں ملالہ یوسفزئی کی تیمارداری کی تھی۔

صدر زرداری نے ملالہ یوسفزئی کے والد سے ملاقات میں انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ برطانیہ میں ملالہ یوسفزئی کے علاج کے دوران ان کی خاندان کے برطانیہ میں قیام پر اٹھنے والے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔