جنگ کے گیارہ سال بعد پاکستانی فوج کے نظریے میں تبدیلی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 12:58 GMT 17:58 PST

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کو عوام تک پہنچانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے

پاکستان کی بری فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے گیارہ سال بعد اپنی آپریشنل ترجیحات میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک کو لاحق اندرونی خطرات کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے شائع کردہ نئے فوجی نظریے یا ’آرمی ڈاکٹرین‘ میں ملک کی مغربی سرحدوں اور قبائلی علاقوں میں جاری گوریلا کارروائیوں اور بعض تنظیموں کی جانب سے اداروں اور شہریوں پر بم حملوں کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ ’ڈاکٹرین‘ فوج اپنی جنگی تیاریوں اور استعدادِ کار کے جائزے اور اسے درست سمت میں رکھنے کے لیے شائع کرتی ہے۔

اس بار اس ’سبز کتاب‘ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے جسے ’سب کنونشنل وار فیئر‘ یا نیم روایتی جنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس جنگ کے کرداروں میں نام لیے بغیر بعض تنظیموں اور عناصر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس ذیل میں مغربی سرحد کے اس پار سے ہونے والی کارروائیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

جب اس بارے میں فوجی حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج روایتی اور غیر روایتی ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

کلِک ’ کم از کم اب بات تو مختلف سمت میں ہوئی‘

دفاعی مبصرین مغربی سرحد اور اس کے قریب پیدا ہونے والے ان اندرونی و بیرونی خطرات کا ادراک کرنے کو پاکستان کی فوجی پالیسی میں بنیادی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود اس بارے میں کہتے ہیں ’اس ڈاکٹرین کے شائع ہونے سے پہلے تک بھارت ہی پاکستان کا دشمن نمبر ایک رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے تمام اثاثے صرف اسی دشمن کے لیے بنتے اور جمع ہوتے رہے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستانی فوج نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ اب ملک کو اصل خطرہ اندرونی ہے جس کا ارتکاز مغربی سرحد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہے۔‘

سبز کتاب

اس فوجی نظریے کی تیاری میں کردار ادا کرنے والے ایک سینئیر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ نیم روایتی جنگ کے نام سے ایک نیا باب شامل کرنے کا مقصد فوج کو اس نئے خطرے سے لڑنے کے لیے تیار کرنا اور اس کے لیے ضروری عوامی اور سیاسی حمایت کا حصول ہے۔

جنرل طلعت مسعود نے کہا کہ فوجی نظریے یا ڈاکٹرین میں اس تبدیلی سے پتا چلتا ہے کہ فوج اب اپنی آپریشنل تیاریوں اور منصوبہ بندی میں زیادہ اہمیت اس نیم روایتی جنگ کو دے رہی ہے جس کا ہدف ممکنہ طور پر تحریکِ طالبان پاکستان اور افغان سرحد کے اس پار ان کے اتحادی ہیں۔

اس فوجی نظریے کی تیاری میں کردار ادا کرنے والے ایک سینئیر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ نیم روایتی جنگ کے نام سے ایک نیا باب شامل کرنے کا مقصد فوج کو اس نئے خطرے سے لڑنے کے لیے تیار کرنا اور اس کے لیے ضروری عوامی اور سیاسی حمایت کا حصول ہے۔

سبز رنگ کی یہ کتاب دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جسے متعلقہ فوجی کمانڈروں میں تقسیم کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کو عوام تک پہنچانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور مناسب وقت آنے پر اسے فوج کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا جائے گا۔

اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ بعض تنظیمیں اور عناصر پاکستان کے وجود کو ختم کرنے کی غرض سے قبائلی اور شہری علاقوں میں دہشت گردی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

’یہ حملے انتہائی درجے کی سفاک اور مہلک منصوبہ بندی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے اسی درجے کی تیاریوں اور جوابی کارروائیوں کی ضرورت ہے۔‘

غیر روایتی جنگ کے باب میں پراکسی وار کا بھی ذکر ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں تشدد کی وجہ یہ عنصر بھی ہے۔ تاہم اس ذیل میں کسی ملک کا نام تحریر نہیں کیا گیا ہے۔

"یہ حملے انتہائی درجے کی سفاک اور مہلک منصوبہ بندی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے اسی درجے کی تیاریوں اور جوابی کارروائیوں کی ضرورت ہے۔"

نیا فوجی ڈاکٹرین

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا باضابطہ اعتراف اور دستاویزی شکل میں ان خطرات کو شائع کرنے سے فوج کی صلاحیتوں کو ان کے خلاف بہتر طور پر استعمال کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی سرحدوں سے کسی سنگین خطرے کی عدم موجودگی اور دفاعی افواج کا تمام ارتکاز مشرقی سرحدوں کی جانب ہونے کے باعث پاکستانی مسلح افواج اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کی غرض سے آنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں کی بر وقت نشاندہی نہیں کر سکی۔

اس افسر کے مطابق ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے فضائی افواج کے سربراہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر فضائیہ کے اثاثے اس تعداد میں موجود نہیں ہیں کہ وہ اس طرح کی کارروائی کی بروقت اطلاع دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فوج کی توجہ کا محور مشرقی سرحد ہی رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بیان نے پاکستان کے دفاعی پالیسی سازوں کو اپنی پالیسی میں اس بنیادی تبدیلی کے حق میں فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

اس کے علاوہ، فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر سنہ دو ہزار گیارہ میں سلالہ کے مقام پر پاکستانی فوج پر نیٹو افواج کے حملے کو روکنے اور جوابی کارروائی کے لیے بھی مقامی کمانڈرز کے پاس اختیارات اور معقول اثاثے نہ ہونا بھی اس نئی ’غیر روایتی جنگ‘ کی اصطلاح کی تخلیق کا باعث بنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔