صوابی: ہلاک شدگان کی تدفین، تحقیقات شروع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 07:49 GMT 12:49 PST

تفتیش کی ذمہ داری ایک چار رکنی کمیٹی کو سونپی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں منگل کو نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی تفتیشی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حملے میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں پانچ استانیاں، ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور ایک ٹیکنیشن شامل ہیں جنہیں بدھ کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

صوابی کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر عبدالرشید خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ان کے مطابق تفتیش کی ذمہ داری ایک چار رکنی کمیٹی کو سونپی گئی ہے تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ادھر حملے کا نشانہ بننے والے غیر سرکاری تنظیم سپورٹ ود ورکنگ سولیوشن نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ انیس سو اکیانوے میں قائم ہونے والی یہ تنظیم ایک مقامی این جی او ہے جو علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کر رہی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ صوابی میں غیر سرکاری تنظیم پر حملہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ صوابی میں سکولوں پر تو حملے ہوتے رہے ہیں اور انہیں تباہ بھی کیا گیا ہے تاہم اس سے پہلے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔