سی این جی کے لیے قطاریں ختم نہیں ہونگی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 00:47 GMT 05:47 PST

پاکستان میں سی این جی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تعداد سینتیس لاکھ ہے

ملک کے طول وعرض میں سی این جی کے لیےگیس سٹیشنوں پر طویل قطاریں معمول کا منظر بن گئی ہیں۔ تاثر ایسا دیا جا رہا ہے جیسے یہ بحران گیس کی قیمتوں کے تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے قیمتوں کے تنازعے نے بحران سنگین بنا دیا ہے۔ قیمتوں کا تنازعہ طے ہو بھی جائے گیس سٹیشنوں پر قطاریں ختم نہیں ہو نگی۔

پاکستان میں قدرتی گیس کے بحران کے آثار تو گذشتہ کئی برسوں سے محسوس ہو رہے تھے مگر حکمران مسئلے سے صرفِ نظر کرتے رہے اور آج ملک بدترین بحران سے دوچار ہو چکا ہے۔ نوبت یہ آچکی ہے کہ بسیں ہوں یا ویگنیں، ٹیکسی ہو یا رکشا یا نجی کار مالکان سب ہی گھنٹوں سی این جی کے قطار میں ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

تنازعے نے شدًت اس وقت اختیار کر لی جب سپریم کورٹ آف پاکستان نےگذشتہ سال اکتوبر میں ملک میں ٹرانسپورٹ میں استعمال کے لیے سی این جی کی قیمت کم کرنے کا حکم جاری کیا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھاٹی (اوگرا) نے ملک میں سی این جی کی قیمت اسًی روپے فی کلو سے کم کرکے چوًن روپے فی کلو کردی-

جس پر سی این جی سٹیشنوں کے مالکان نے کبھی اعلانیہ تو کبھی غیر اعلانیہ سی این جی کی فروخت بند کرنا شروع کردی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ملک میں قدرتی گیس کی شدید قلًت کی وجہ سے ہفتے میں کبھی دو دن تو کبھی تین دن ناغہ پہلے ہی نافذ تھا۔

پاکستان میں گیس کی قلًت ڈھائی ارب کیوبک فٹ تک پہنچ چکی ہے

تین ماہ سے زیادہ گزر گئے مگر تنازعہ وہیں ہے اور صارفین دربدر۔ اس دوران قیمتوں کے کئی فارمولے پیش کیےگئے جو سی این جی سٹیشنوں کے مالکان نے مسترد کر دیۓ۔ جنوری کے شروع میں اوگرا نے نئی قیمتوں کا تعین کر تے ہوئے ریجن ون (خیبر پختون خوا اور بلوچستان) کے لیے چوہتًر روپے چوالیس پیسے اور ریجن ٹو (سندھ اور پنجاب) کے لیے پینسٹھ روپے اٹھہتًر پیسے قیمت مقرر کردی۔ مگر نئی قیمت بھی سٹیشن مالکان کو منظور نہیں-

سی این جی کے فروغ کی پالیسی

"فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں سی این جی کی گاڑیوں میں استعمال کو فروغ دینے کےلیے ترغیبات پر مبنی پالیسی جاری کی گئی جس کے نتیجے میں اس شعبے میں تیزی سے سرمایہ کاری ہوئی۔اس وقت ملک میں سی این جی سٹیشنوں کی تعداد تین ہزار چھ سو ہو چکی ہے۔ ملک میں سی این جی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھ کر سینتیس لاکھ ہو گئی ہے جس میں بسیں، ویگنیں، ٹیکسی اور رکشا اور نجی گاڑیاں سب ہی شامل ہیں-"

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی سپریم کونسل کے چیئرمین غیاث پراچہ نے حکومتی فیصلے کو رد کرتے ہوئے آٹھ جنوری سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پراچہ نے مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخصوص مفادات کا تحفًظ کر رہے ہیں۔

قیمتوں کا مسئلہ اور تنازعہ طے ہو بھی جائے تو بھی قلًت سے پیدا ہو نے والے بحران کا کوئی حل نہیں۔ ملک میں قدرتی گیس کی اوسط پیداوار اس وقت چار ارب کیوبک فٹ یومیہ ہے۔ طلب چھ ارب کیوبک فٹ سے زیادہ ہے یعنی پاکستان اس وقت دو ارب کیوبک فٹ یومیہ سے زیادہ گیس کی قلًت کا شکار ہے۔ سردیوں میں یہ قلًت ڈھائی ارب کیوبک فٹ تک پہنچ گئی ہے-

فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں سی این جی کی گاڑیوں میں استعمال کو فروغ دینے کےلیے ترغیبات پر مبنی پالیسی جاری کی گئی جس کے نتیجے میں اس شعبے میں تیزی سے سرمایہ کاری ہوئی۔اس وقت ملک میں سی این جی سٹیشنوں کی تعداد تین ہزار چھ سو ہو چکی ہے۔ ملک میں سی این جی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھ کر سینتیس لاکھ ہو گئی ہے جس میں بسیں، ویگنیں، ٹیکسی اور رکشا اور نجی گاڑیاں سب ہی شامل ہیں-

سی این جی سٹیشنوں کے قیام اور گاڑیوں کو گیس پرمنتقل کرنے پر چار ارب روپے سے زیادہ سرمایہ کاری ہو چکی ہے-

پاک ایران گیس منصوبے کے بارے میں حکومتی دعوے اپنی جگہ مگر واقف احوال کہتے ہیں اس میں حقیقی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ منصوبے پر امریکی تحفًظات اور دباؤ کسی سے چھپا نہیں-

حکومت کو یہ بھی امید ہے کے اس سال اپریل تک تقریباً ساڑھے سات سو ملیئن کیوبک فٹ اضافی گیس ملکی ذرائع سے حاصل ہو نے لگے گی، مگر کیسے؟ یہ واضح نہیں- مگر سردی کی شدًت کم ہونے پر گھروں میں گیس کی فراہمی بہتر ہو نے کی توقع کی جا سکتی ہے-

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔