ملالہ کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 09:52 GMT 14:52 PST

ملالہ کو حال ہی میں سنہ دو ہزار بارہ کا عالمی ٹپریری ایوارڈ برائے امن دیا گیا ہے

پاکستان میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پندرہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کو تقریباً ڈھائی ماہ کے علاج کے بعد برمنگھم میں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

برمنگھم کے کوئین الزبتھ کی ایک ترجمان نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کی صحتیابی کا عمل ان کی قیام گاہ پر جاری رہے گا تاہم انہیں چند ہفتوں میں ایک آپریشن کے لیے دوبارہ ہسپتال لایا جائے گا۔

کلِک ملالہ ہسپتال سے ڈسچارج، تصاویر

ہسپتال میں ملالہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق وہ رواں ماہ کے آخر یا فروری کے شروع میں ان کے سر کا ایک اور آپریشن کریں گے۔

ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیو روسر نے کہا ہے کہ’علاج کے دوران ملالہ کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’کوئین الزبتھ ہسپتال کے ماہر ڈاکٹر برمنگھم چلڈرنز ہسپتال کے ساتھی ڈاکٹرز کی مدد سے ملالہ کا علاج کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ سال اکتوبر میں جب ملالہ پر حملہ ہوا تو گولی ان کی بائیں آنکھ کے اوپر لگی اور دماغ کو چھو کر گزر گئی تھی۔ اس گولی کو ملالہ کو پندرہ اکتوبر کو برطانیہ لے جائے جانے سے پہلے پاکستان میں ہی نکال دیا گیا تھا۔

طالبان شدت پسندوں کے مطابق انہوں نے ملالہ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ ’سیکولرازم‘ کو فروغ دے رہی تھیں۔ شدت پسندوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ ملالہ کو پھر سے نشانہ بنائیں گے۔

ملالہ یوسفزئی پرحملے کے بعد طالبان کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔

ادھر حکومت پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کے والد کا مینگورہ میں اپنا سکول ہے جہاں ان کی اپنی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی۔

ملالہ کو حال ہی میں سنہ دو ہزار بارہ کا عالمی ٹپریری ایوارڈ برائے امن دیا گیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ملالہ کو آئرلینڈ کا یہ ایوارڈ تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کرنے اور ان کے حوصلے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

سنہ دو ہزار سات میں پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بےنظیر بھٹو نے بھی ٹپریری ایوارڈ جیتا تھا۔

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔