طاہرالقادری کا راستہ انتشار کا راستہ ہے:نواز

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST

حکومت کے اتحادی منافقت ترک کرتے ہوئے حکومت یا طاہرالقادری میں سے کسی ایک کا ساتھ دیں:نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری کا تجویز کردہ راستہ انتشار کا راستہ ہے۔

پشاور میں اے این پی کے رہنما بشیر بلور کی تعزیت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بے اصولی کی سیاست ہو رہی ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ ہی کوئی منزل۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات قطعاً ملتوی نہیں ہوں گے اور چند ہزار لوگوں کی یہ جرات نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام سے ان کا حق چھین سکیں۔ ایسا ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘

ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ ایک سازش ہے اور ان کا راستہ انتشار کی جانب لے جاتا ہے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ’یہ کونسا مذہب ہے جو یہ سکھاتا ہے اور کون سا اسلام ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ غریبوں کو ان کی موٹر سائیکلوں سے اور ان کے زیورات سے محروم کرو اور پھر اسے اپنی سیاست پر خرچ کرو؟‘

"ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کی اس مارچ میں شمولیت کے بارے میں انہوں نے مجھے تو ایم کیو ایم کے نظریے کا پتہ نہیں لگتا، ایم کیو ایم کے ووٹر پوچھیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے؟ مسلم لیگ ق کے نظریے کی بھی مجھے سمجھ نہیں آتی وہ اپنے خلاف لانگ مارچ کروا رہے ہیں یا وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں شیخ الا سلام کا؟"

میاں نواز شریف

انہوں نے مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں آپ قرآن کی تعلیم دیتے دیتے، اللہ اور اس کے رسول کا نام لیتے لیتے اس سب کو پس پشت ڈال کر اپنا آپ لا رہے ہیں۔‘

ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کی اس مارچ میں شمولیت کے بارے میں انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’مجھے تو ایم کیو ایم کے نظریے کا پتہ نہیں لگتا، ایم کیو ایم کے ووٹر پوچھیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے؟ مسلم لیگ ق کے نظریے کی بھی مجھے سمجھ نہیں آتی وہ اپنے خلاف لانگ مارچ کروا رہے ہیں یا وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں شیخ الا سلام کا؟‘

’میں تو کہتا ہوں کہ یہ اتنی بے اصولی قسم کی سیاست ہو گئی ہے پاکستان کی جس کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی اس کوئی منزل ہے؟ ان کو یہ نہیں پتا کہ یہ کس کے ساتھ ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اتحادی منافقت ترک کرتے ہوئے حکومت یا طاہرالقادری میں سے کسی ایک کا ساتھ دیں۔

’بھئی آپ ایک طرف تو ہوں، یا زرداری کا ساتھ دیں یا شیخ الاسلام کا۔ زرداری کے ساتھ بیٹھے بھی ہوئے ہو اور شیخ الاسلام کے ساتھ لانگ مارچ میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کیا منافقت ہے؟‘

انہوں نے ایم کیو ایم اور ق لیگ کے ووٹروں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس منافقت کو سمجھیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔