ملا نذیر کی’ہلاکت‘ اہم کامیابی ہے: پینٹاگون

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 07:28 GMT 12:28 PST

ڈرون حملے میں ملا نذیر ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈر ملا نذیر سمیت نو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

امریکی محکمۂ دفاع نے طالبان کمانڈر ملا نذیر کی ڈرون حملے میں ہلاکت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ خبر درست ہے تو یہ ایک اہم کامیابی ہے۔

پاکستان کے قبائلی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ہونے والے دو ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈرملا نذیر سمیت نو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

طالبان کی جانب سے اس ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی تصدیق بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان جارج لٹل نے کہا ہے کہ اگر یہ خبر ٹھیک ہے تو یہ نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستان کے لیے بھی بہت اہم ہے۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق ملا نذیر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والے ڈرون حملے میں مارے گئے۔ وانا کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے مطابق وہ برمل سے وانا جارہے تھے کہ سراکنڈہ کے مقام پر ان کی گاڑی میزائل کا نشانہ بنی۔

اس حملے میں ان کے علاوہ ان کے نائب طالبان کمانڈر رتا خان سمیت پانچ دیگر شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔ یہ دو ہزار تیرہ میں پاکستانی سرزمین پر ہونے والا پہلا ڈرون حملہ تھا۔

ملا نذیر گروپ کے کمانڈر ضیاالرحمان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ملا نذیر کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی ہلاکت کے بعد بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔

ملا نذیر کو اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی

وانا کی مقامی آبادی کے مطابق ملا نذیر کی نمازِ جنازہ جمعرات کو وانا سے دس کلومیٹر دور اعظم ورسک میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور اس موقع پر وانا بازار مکمل طور پر بند رہا۔

جنوبی وزیرستان کے احمد زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا نذیر کا شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ اور شوریٰ اتحاد المجاہدین سے قریبی تعلق تھا۔

ابتداء میں یہ اپنے علاقے میں بیت اللہ محسود کے نمائندے سمجھے جاتے تھے لیکن تحریک طالبان کے اندر اختلافات کے باعث الگ ہو کر حافظ گل بہادر کے ساتھ مل گئے اور اب افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کو اپنا رہنما قرار دیتے تھے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ملا نذیر کے جانشین صلاح الدین ایوبی کو علاقے میں ایک اچھے اور مخلص ثالث کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور وہ علاقے میں مقامی جھگڑوں اور دوسرے تنازعات میں اچھے مُنصف کا کردار ادا کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

طالبان شدت پسندوں میں صلاح الدین ایوبی ایک بہادر طالبان کمانڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ ملا نذیر کی نسبت تھوڑے سخت مزاج ہیں

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔