سلمان تاثیر کے بعد دل اور دماغ میں اٹھنے والی لہر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 15:19 GMT 20:19 PST

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کی جانب سے ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی مدد کرنے کے بعد اٹھی تھی

’گستاخ رسول کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا‘، اس عبارت سے پاکستان کی کئی دیواریں آج بھی رنگی ہوئی ہیں، جبکہ حُرمتِ رسول کے نام پر کئی ریلیاں اور جلسے منعقد ہوچکے ہیں۔

یہ لہر پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کی جانب سے ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی مدد کرنے کے بعد اٹھی تھی۔ اس خاتون پر پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعد میں آسیہ بی بی کی مدد و حمایت پر ایک پولیس اہلکار نے سلمان تاثیر کو قتل کر دیا تھا۔ یہ اہلکار سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھا۔

توہین رسالت کے مقدمات کی پیروی کرنے والے ادارے کمیونٹی ڈویلپمنٹ اِنیشی ایٹیو کے ڈائریکٹر آصف عقیل کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر کی جرت کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں میں یہ احساس پیدا ہوا تھا کہ شاید ان کے لیے کوئی آواز بلند کرسکتا ہے، لیکن ان کی ہلاکت کے بعد اقلیتوں میں غیر یقینی اور عدم تحفظ کے احساس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

’اب ان لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر ان کے لیے کوئی آواز بلند کرنا چاہتا بھی ہے تو وہ ڈر اور خوف سے ایسا نہیں کرے گا‘۔

توہینِ رسالت کا الزام

پاکستان کے تحقیقی ادارے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق سنہ انیس سو تریپن سے لے کر جولائی سنہ دو ہزار بارہ تک چار سو چونتیس افراد پر توہین رسالت اور قرآن کی بے حرمتی کا الزام عائد ہوا، جن میں دو سو اٹھاون مسلم، ایک سو چودہ عیسائی،ستاون احمدی اور چار ہندو تھے۔

سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعد ریاستی اور سماجی رویوں میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ آسیہ کے بعد رمشا اور ایک امریکی فلم ساز کی متنازع فلم پر معاشرے کے بیشتر طبقات نے ’حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے‘ کے نعرے لگائے جو اس سے پہلے صرف چند مذہبی جماعتوں کی جانب سے سنے جاتے تھے۔

پاکستان میں سیکیولر جماعتوں سے وابستہ جماعتوں کے بعض رہنما بھی اس لہر کا حصہ بن گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے متنازع فلم کے فلمساز کے سر کی قمیت مقرر کردی جب کہ متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ سندھ کے سابق صوبائی وزیر روؤف صدیقی نے سابق صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے متنازع فلم کے بعد یو ٹیوب پر پابندی عائد کردی جب کہ سرکاری سطح پر سوگ منانے کے لیے عام چھٹی کی گئی۔ یوم عشق رسول کے دوران کراچی میں امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ کی کوشش میں چار سینما گھر اور بینک جلائے گئے جب کہ فائرنگ میں نوافراد ہلاک ہوگئے۔

نامور تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ جب حکومت میں شامل لوگ قانون کی پیروی کے بجائے لوگوں کی ہمت افزائی کریں گے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں اور وہ قانون جس میں نظر ثانی کی ضرورت ہے، تو اس کے بارے میں مہم کا زور ٹوٹ جائے گا۔

سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعد سول سوسائٹی کی بعض تنظیموں نے احتجاج بھی کیے جس کے دوران کیمپ لگائے گئے۔

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ توہین رسالت قانون میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مذہب کی پاسداری کرتے ہوئے بھی ایسا کوئی نظام یا قانون بنانا چاہیے جس میں لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو لیکن اس خیال کے لوگ کم ہیں جس کی وجہ سے اس قسم کی مہم نے زور نہیں پکڑا۔

پاکستان کے تحقیقی ادارے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق سنہ انیس سو تریپن سے لے کر جولائی سنہ دو ہزار بارہ تک چار سو چونتیس افراد پر توہین رسالت اور قرآن کی بے حرمتی کا الزام عائد ہوا جن میں سے دو سو اٹھاون مسلم، ایک سو چودہ عیسائی، ستاون احمدی اور چار ہندو تھے۔

" سیاسی جماعتیں انتہا پسندوں کے دباؤ میں آجاتی ہیں اور انہیں چیلینج کرنا نہیں چاہتے اور وہ بھی یہ کہتے ہیں اس کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے مگر جب قانون میں خامیاں ہوں گی تو اس کا غلط استعمال ہی ہوگا۔"

زہرہ یوسف

انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کی ہلاکت کے بعد ملک میں جو خوف کی فضا پیدا ہوئی، لگتا ہے کہ حکومت بھی اس سے خوف زدہ ہوگئی ہے کیونکہ سلمان تاثیر کے موقف کا جو اظہار کرنا تھا، بجائے اس کے حکومت کا رویہ بھی معذرت خواہانہ ہوگیا۔

پاکستان میں توہین رسالت کے قانون میں منسوخی یا ترمیم پر معاشرے کے کسی طبقے سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔ زہرہ یوسف کے مطابق ’سیاسی جماعتیں انتہا پسندوں کے دباؤ میں آجاتی ہیں اور انہیں چیلنج کرنا نہیں چاہتے اور وہ بھی یہ کہتے ہیں اس کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے، مگر جب قانون میں خامیاں ہوں گی تو اس کا غلط استعمال ہی ہوگا۔‘

ماہرین کے مطابق انڈونیشیا، ملائشیا اور ایران میں بھی توہین رسالت کے قوانین موجود ہیں مگر اس قدر سخت نہیں۔

یہ لہر کس قدر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ سال اسی الزام کی بنیاد پر مشتعل ہجوم نے سندھ کے ایک شہر دادو اور بہاولپور میں دو افراد کو تشدد کر کے ہلاک کردیا تھا جب کہ لاہور میں ایک ہائی سکول اور کراچی میں ایک گھر کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔