’میرے والد نے مشکل مقصد کے لیے آواز اٹھائی‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 01:20 GMT 06:20 PST
شہریار تاثیر

پارٹی کے سینئر راہنماؤں کا رویہ ہم سے بہت شفیقانہ رہا ہے: شہریار تاثیر

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہریار تاثیر کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان گذشتہ دو برس سے مشکل دور سے گزر رہا ہے تاہم وہ لوگ پاکستان میں تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اپنے والد کی دوسری برسی کے موقع پر بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں شہریار تاثیر کا کہنا تھا کہ ’پہلے والد کی اچانک موت اور پھر بھائی کا اغوا، میرے خاندان کے لیے یہ وقت کافی تکلیف دہ ہے اور زندگی کی مشکل گھڑیوں میں باپ کی کمی تو سب کو ہی محسوس ہوتی ہے، مجھے بھی ہوتی ہے۔ یہ سفر آسان نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہی دنیا ہے اور زندگی آسانیوں اور مشکلوں کے مجموعے کا نام ہے۔‘

"کچھ قدم بہادر لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔ سلمان تاثیر زندگی میں بھی کچھ باتوں کے لیے اکیلے ہی کھڑے ہوئے۔"

شہریار تاثیر

اس سوال کے جواب میں کہ پیپلز پارٹی سلمان تاثیر کے مشن کو آگے بڑھانے میں کس حد تک کامیاب ہوئی، شہریار تاثیر کا کہنا تھا کہ ’کچھ قدم بہادر لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔ سلمان تاثیر زندگی میں بھی کچھ باتوں کے لیے اکیلے کھڑے ہوئے اور آج بھی وہ اپنی سوچوں میں اکیلے ہی کھڑے ہیں۔ یہ چیزیں سب کر نہیں سکتے، اس لیے میں کسی کو قصوروار نہیں ٹھہراوں گا۔ یہ بہت مشکل مقصد ہے جس کے لیے میرے والد نے آواز اٹھائی۔‘

شہریار کا کہنا تھا کہ ’سلمان تاثیر کی جدوجہد آگے بڑھی ہے، ہم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انتہا پسند سمجھتے ہیں کہ اُن کی آواز اونچی ہے اس لیے وہ طاقتور ہیں۔ ایسا نہیں ہے! کام کرنے والے لوگ کام کرتے ہیں وہ شور نہیں مچاتے۔‘

اس سوال پر کہ سلمان تاثیر کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی کا رویہ ان کے خاندان سے کیسا رہا، شہریار کا کہنا تھا کہ ’میرے والد کی پیپلز پارٹی سے طویل وابستگی رہی ان کی وفات کے بعد پارٹی کے سینئر راہنماؤں کا رویہ ہم سے بہت شفیقانہ رہا ہے اور ہمیں کبھی کسی بھی حوالے سے کچھ برا محسوس نہیں ہوا۔‘

شہباز تاثیر

اپنے بھائی شہباز کی بازیابی کے حوالے سے شہریار کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ شہباز جلد گھر واپس آجائیں گے

سلمان تاثیر کی سیاسی وراثت سے متعلق شہریار نے بتایا کہ ’ کچھ حد تک ہم سب ہی سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔ لیکن دنیا میں بہت سے شعبے ہوتے ہیں جن میں آپ کو اپنا نام بنانا ہوتا ہے اور کاروبار میں ہمارے خاندان کا نام ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جہاں ہمیں کھیلنا آتا بھی ہے اور پسند بھی ہے۔ ہم پاکستان میں تبدیلی کے لیے اپنا کردار ضرور ادا کریں گے‘۔

اپنے والد سے متعلق یادیں تازہ کرتے ہوئے شہریار کا کہنا تھا کہ ’سلمان تاثیر کی شخصیت میں جرت کا عنصر بہت نمایاں تھا جو انہیں بچپن سے ہی بہت متاثر کن لگتا تھا۔ ’ہم یہی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے کہ ضیا کے دور میں کس طرح انھوں نے آمریت کے خلاف آواز اٹھائی اس وقت جب بہت پابندیاں اور میڈیا بھی آزاد نہیں تھا کس طرح وہ نڈر اپنے نظریات پر قائم رہے۔ بہادری کی یہ خوبی ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ ہجوم تو ہمیشہ پیچھے چلنے والا ہوتا ہے اور لیڈر ہی قیادت کرنے والا ہوتا ہے اور سلمان تاثیر ہمیشہ سے لیڈر تھے۔ وہ بولتے کم تھے اور کرتے زیادہ تھے‘۔

اپنے بھائی شہباز کی بازیابی کے حوالے سے شہریار کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ شہباز جلد گھر واپس آجائیں گے۔

’ڈیڑھ برس گزر گیا ہے یہ بہت خفیہ معاملہ ہے اور ہم اس پر میڈیا میں بہت زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے۔ میں یہی کہوں گا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مجھے یقین ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی شہباز نے ہمت نہیں ہاری ہو گی اور وہ سلمان تاثیر کا بیٹا ہے اور ایک مضبوط انسان ہے۔ وہ جہاں بھی ہے وہ خیرت سے ہے اور میرے والد کی روح اسے دیکھ رہی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔