قتل پر معاشرے کا ردعمل اور انصاف کی امید

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 15:50 GMT 20:50 PST

ابق گورنر سلمان تاثیر کا قتل جنوری دو ہزار گيارہ میں ہوا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے دو سال بعد اس بات کی کیا اہمیت رہ گئی ہے کہ ان کا حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں کیا مقام تھا۔

البتہ یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ان کے قتل کے بعد اس معاشرے کا کیا ردعمل رہا جس کی اپنے تئیں وہ اصلاح کی کوشش کرتے اور قربانیاں دیتے رہے۔

ہوا یہ کہ سلمان تاثیر کے جوان بیٹے کو ان کے قتل کے چار مہینے بعد ہی اغوا کر لیا گیا۔ سابق گورنر کے قتل کے ملزم ممتاز قادری کو ایک طبقے نے اپنا ہیرو قرار دیا۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنائی تو گئی لیکن عملدرآمد روک دیا گیا۔

کلِک ’میرے والد نے مشکل مقصد کے لیے آواز اٹھائی‘

کلِک گورنر سلمان تاثیر کا قاتل ہیرو کیسے بنا

کلِک سلمان تاثیر نہیں روشن خیال پاکستان کی موت

سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے سے شہر کے تقریباً تمام جید علماء نے انکار تو کیا ہی تھا، اب ان کے مقدمہ قتل کے لیے کوئی وکیل نہیں ملتا جبکہ ملزم کے مقدمے کی پیروی سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف کر رہے ہیں۔

ان کی اپنی جماعت پیپلز پارٹی (ماسوائے بلاول بھٹو) کسی نے کبھی بھی کھل کر ان کے موقف کی حمایت نہ کی، اور جس ایک واحد وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے انھیں راہ حق کا شہید قرار دیا تھا، اسے بھی قتل کر دیا گیا۔

سول سوسائٹی کی مختصر چند ایک ریلیاں بھی ان کے خاندان کے ذاتی تعلقات کا نتیجہ تھیں۔

پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر نے اپنی موت سے چند مہینے پہلے ہی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پنجاب میں انتہا پسندی وغیرہ کچھ نہیں ہے بلکہ لوگ اس (انتہا پسندی) سے نفرت کرتے ہیں۔

ان کی یہ بات بڑی حد تک غلط ثابت ہوئی۔ اب مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے اس کے مطابق تو سلمان تاثیر کے قتل کے ملزم ممتاز قادری کی پذیرائی کچھ زیادہ ہی دکھائی دیتی ہے۔

ممتاز قادری کے پرستار چار جنوری کو یوم جرآت و بہادری قرار دیتے ہیں اور فیس بک پر ان کے قتل کی مذمت کرنے والوں میں سے اکثریت کو گالیوں سے نوازا جاتا ہے اور پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا تم مسلمان ہو؟

سلمان تاثیر محض پنجاب کے گورنر ہی نہیں تھے، ان کی پیپلز پارٹی اور جمہوریت کے لیے طویل خدمات تھیں۔

ممتاز قادری کے پرستار چار جنوری کو یوم جرآت و بہادری قرار دیتے ہیں

انھوں نے نوعمری میں سیاسی کیئریر شروع کیا۔ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور پھر ان کی گرفتاری اور پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوانح عمری لکھی۔

سنہ انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو دور میں بطور پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو صوبے کی نواز حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔

بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد سلمان تاثیر ایک بار پھر سڑکوں پر تھے، گرفتار ہوئے، جیل گئے،جیل میں خصوصی تشدد برداشت کیا۔

پھر کچھ عرصہ تک پس منظر میں رہے اور کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر اپنا مقام بنایا۔

بے نظیر کے بعد کی پیپلز پارٹی کو صحیح سمجھے اور جلد ہی پارٹی کے نئے سربراہ آصف زرداری کے منظور نظر بن گئے۔

جب گورنر پنجاب بنے تو انہوں نے صوبے کی شریف حکومت کو سیاسی طور پر کڑا وقت دیا۔اسی دوران پارٹی پالیسی آگے بڑھاتے ہوئے توہین رسالت کے قانون (کے طریقہ کار) کو تبدیل کرنے کی بات کی۔

اسی بات پر اپنے ہی سرکاری محافظ کے ہاتھوں قتل ہوئے اور جواب میں چاروں صوبوں کی زنجیر پیپلز پارٹی اور ان کی حکومت انھیں ایک بھی نامور وکیل نہ دے سکی۔ نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد کو پارٹی یا حکومتی عہدہ دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سلمان تاثیر کے المناک انجام اور شہباز تاثیر کے اغوا کے بعد وہ کوئی عہدہ لینا ہی نہیں چاہتے ہوں گے۔

ان کے اہل خانہ کو تو مقدمہ قتل میں انصاف کی امید نہیں تھی لیکن پھر بھی کچھ حلقوں میں یہ توقع ضرور پیدا ہوئی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت انھیں انصاف دلا سکتی ہے۔

یہ توقع پیپلز پارٹی کے باپ بیٹا سربراہوں یعنی چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین صدر مملکت آصف علی زرداری سے ہے۔

یہ دونوں وہ شخصیات ہیں جن میں سے ایک اپنی بیوی اور دوسرا اپنی والدہ یعنی بے نظیر بھٹو کے قتل کا حساب نہ لے سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔