الطاف حسین کی سپریم کورٹ سے غیرمشروط معافی

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 11:07 GMT 16:07 PST

’یہ کسی عدالت کا نہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ کسی بھی حلقہ میں کس جماعت کو اپنا مینڈیٹ دیتے ہیں‘

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

عدالت نے الطاف حسین کی معافی قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف توہین عدالت کے معاملے میں اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے چودہ دسمبر دو ہزار بارہ کو الطاف حسین کی ایک تقریر میں ججوں کے خلاف بیان بازی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سات جنوری کو انہیں ذاتی طور پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

پیرکو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔

نوٹس کی سماعت کے موقع پر الطاف حسین ذاتی طور پر تو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم ان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے تحریری معافی نامہ عدالت میں جمع کروایا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق الطاف حسین نے اپنے معافی نامے میں یہ کہا ہے کہ دو دسمبر کی تقریر میں اُنہوں نے جو ججز کے بارے میں متنازع بیان دیا تھا وہ اسے واپس لیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ججز کے بارے میں بات کرنے میں احتیاط برتیں گے۔

یاد رہے کہ الطاف حسین کو جس تقریر پر یہ نوٹس جاری کیا گیا تھا وہ بظاہر سپریم کورٹ کے اس عبوری حکم کے متعلق تھی جس میں کراچی شہر میں مبینہ طور پر لسانی بنیادوں پر کی گئی حلقہ بندیاں ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ایک پارٹی کے قائد کی طرف سے اپنے الفاظ واپس لینا خوش آئند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح عوام میں قانون کی حکمرانی پر یقین مزید پختہ ہوگا۔

الطاف حسین کے وکیل نے عدالت میں دستاویزات بھی پیش کیں جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات اور بعض ناگُزیر وجوہات کی بنا پر اُن کے موکل عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہیں جسے عدالت نے تسلیم کرلیا۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت قانون کی حاکمیت پر یقین رکھتی ہے۔

اسی دوران ایک سوال کے جواب میں الطاف حسین کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ کراچی کی حد بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلے کے بارے میں نظرثانی کی دو درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں جن کی سماعت نو جنوری کو ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔