مملکتِ فلسطین کا نام استعمال کیا جائے: محمود عباس

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 04:09 GMT 09:09 PST

فلسطینی حکام کے مطابق یہ حکم نامہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کا درجہ بدلنے کی قرارداد کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی انتظامیہ مغربی کنارے کے حکام کو کہا ہے کہ وہ سرکاری دستاویزات پر ’ریاست فلسطین‘ کے الفاظ لکھنے کا آغاز کرنے کی تیاری کریں۔

فلسطینی حکام کے مطابق یہ حکم نامہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کا درجہ بدلنے کی قرارداد کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

اب تک تمام فلسطینی سرکاری اور عوامی دستاویزات جیسا کہ پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دوسری دستاویزات پر ’فلسطینی انتظامیہ‘ کی مہر لگی ہوتی تھی۔

فلسطین کا پہلے اقوام متحدہ میں درجہ ’غیر رکن مبصر انتظامیہ‘ کا تھا جو اب بدل کر ’غیر رکن مبصر رسیاست‘ ہو گیا ہے۔

فلسطین کے سرکاری خبر رساں ادارے وفا کے مطابق صدر محمود عباس کا یہ حکم نامہ اتوار کو جاری کیا گیا جس میں صدر عباس نے کہا ہے کہ فلسطینی دستاویزات پر یہ نام لکھنے سے ’فلسطینی ریاست در حقیقت بننا اور ترقی کرنا شروع کرے گی اور اپنے اداروں کی تنطیم سازی کا عمل شروع کرے گی اور اپنی زمین پر اپنی خودمختاری قائم کرے گی۔‘

گزشتہ ہفتے محمود عباس نے فلسطینی وزارتِ خارجہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ریاست فلسطین کے الفاظ سرکاری خط و کتابت میں استعمال کرنا شروع کریں۔

اس پر اب تک اسرائیل کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے اگرچہ اسرائیل نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی درجہ بندی میں تبدیلی کی مخالفت کی تھی اور اس قرارداد کی منظوری کے بعد فلسطینی ریاست کی ٹیکس آمدن روک لی تھی۔

فلسطینی انتظامیہ جو زیادہ تر مغربی کنارے پر حکومت کرتی ہے بہت زیادہ اس ٹیکس آمدن پر انحصار کرتی ہے جو اسرائیل اس کی جانب سے اکٹھا کرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔