امریکی قونصلیٹ کی سابق عمارت قومی ورثہ قرار

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 20:59 GMT 01:59 PST

دو سال قبل قونصل خانہ نئی عمارت میں منتقل کیا گیا جہاں اب دفاتر اور رہائشی بلاک ایک ساتھ ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے کی سابق عمارت کو حکومت نے قومی ورثہ قرار دے دیا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق اس عمارت کو فروخت کیا جا رہا ہے۔

شہر کے عبداللہ ہارون روڈ پر امریکی قونصل خانے کے ساتھ دوسرے کئی ممالک کے بھی سفارتخانے اور قونصل خانے موجود ہوا کرتے تھے جو اب دوسری جگہوں پر منتقل ہو چکے ہیں اب یہاں صرف جاپان کا قونصل خانہ موجود ہے۔

سندھ کے محکمہ ثقافت کے سیکریٹری عبدالعزیز عقیلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت نے امریکہ کے سابق قونصل خانے کی پرانی عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ عمارتیں جن کا فن تعمیر، تاریخی اور سماجی اہمیت کا کوئی حوالہ بنتا ہو تو اس کو قومی ورثہ قرار دیا جاتا ہے، اس کا تعین کرنے کے لیے ایک فنی کمیٹی موجود ہے جو مختلف پہلوں سے جائزہ لیتی ہے اگر عمارت کی ستر فیصد پوائنٹس بنتے ہیں تو اس کو قومی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔

’ تاریخی ورثہ قرار دی گئی عمارت ملکیت مالک کی ہوگی مگر اس کو مسمار نہیں کیا جا سکتا اور قانون کے مطابق اس کی اصل شکل برقرار رکھنا لازم ہے‘۔

سندھ کی حکومت کے اس فیصلے سے امریکی حکام کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا، سیکریٹری محکمہ ثقافت کے مطابق سروے کے بعد مالک کو فیصلے سے آگاہ کیا جاتا ہے امریکی حکام کو باضابطہ خط بھیج دیا گیا ہے اب ان کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے فیصلے سے وہ باخبر ہیں، کراچی میں امریکی قونصل خانے کے ترجمان رچرڈ سلور نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس عمارت کو جدید فن تعمیر کے ماہر نامور آرکیٹیکٹ رچرڈ نیوٹرا نے ڈیزائن کیا تھا اور اس عمارت کو سندھ کی حکومت نے ہیریٹیج قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق امریکی قونصل خانہ فریئر ہال کے سامنے واقع عمارت سے نئی عمارت میں منتقل ہو چکا ہے، امریکی حکومت اس ملکیت کو فروخت کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے رچرڈ نیوٹرا نے1955 میں اس عمارت کو ڈیزائن کیا تھا، شیشے اور کنکٹریٹ کی مدد سے بنائی گئی یہ عمارت 1959 کو مکمل ہوئی مگر پاکستان کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے پر اس کو امریکی قونصل خانہ بنا دیا گیا۔

اس عمارت میں ایک جدید لائبریری بھی موجود تھی، جو ایک بڑے عرصے تک طالب علموں کے لیے باعث کشش رہی مگر صورتحال میں اس وقت تبدیلی آئی جب عراق پر امریکہ نے حملہ کیا، سکیورٹی وجوہات پر آخر لائبریری کو بند کر دیا گیا۔

نائن الیون کے بعد قونصل خانے کا سکیورٹی حصار بڑھتا گیا اور لوگوں کی آمدو رفت محدود ہوئی، اس عمارت اور اس کے ملازمین پر 4 بار دہشت گرد حملہ کیے گئے ، اس سڑک کو پبلک ٹرانسپورٹ اور پیدل سفر کرنے والوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا جس کے باعث سامنے واقعے تاریخی فریئر ہال کی بھی رونقیں متاثر ہوئیں تھیں۔

قونصل خانے پر پہلا حملہ 2002 میں کیا گیا، جس میں ملازم محفوظ رہے تاہم دیواروں کو نقصان پہنچا تھا۔

2003 اور 2004 میں بھی اسی نوعیت کے حملے کیے گئے جس میں سفارتخانے پر تعینات دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ 2006 میں ایک خودکش حملے میں قونصل خانے کا اہلکار ڈیوڈ فوائے اور ڈرائیور جان گنوا بیٹھے۔

دو سال قبل قونصل خانہ نئی عمارت میں منتقل کیا گیا جہاں اب دفاتر اور رہائشی بلاک ایک ساتھ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔