پاک امریکہ پائیدار دوستی اب بھی بعید از قیاس

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 08:14 GMT 13:14 PST

2012 پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے سودمند ثابت ہوا ہے

2011 کی طرح 2012 میں بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات دباؤ کا شکار رہے اور فریقین کی جانب سے کئی ماہ کی کوششوں کے بعد دونوں ملکوں میں اگرچہ تعاون تو بحال ہوگیا لیکن پھر بھی کئی تجزیہ کاروں کے مطابق پہلے جیسی بات نہیں۔

2012 کی پہلی بڑی خبر یہ تھی کہ امریکی صدر نے پاکستان کے لیے 85 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روکنے کے بل پر دستخط کر دیے تھے اور پاکستانی میڈیا نے طنزاً اسے امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے نئے سال کا تحفہ قرار دیا تھا۔

اس وقت صورتحال یہ تھی کہ پاکستان نے افغانستان میں تعینات نیٹو کی فوجوں کے لیے رسد کے راستے بند کر رکھے تھے، دو طرفہ بات چیت کے چینلز بھی بڑی حد تک محدود ہو چکے تھے، امریکہ سیاسی، فوجی اور سفارتی سطح پر سرتوڑ کوشش کررہا تھا کہ پاکستان کو تعاون بحال کرنے پر راضی کرے ۔

پاکستان کی طاقتور سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ اور کمزور منتخب حکومت دونوں ہی اس بارے میں اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے سے گریزاں نظر آتے تھے اور دونوں نے ہی معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا تھا جسے پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا تھا۔

حکمران اتحاد میں شامل جماعت پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین آج بھی یہی سمجھتے ہیں۔’امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تو فیصلہ پارلیمنٹ کو دیا گیا اور پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا۔ چھ سات ماہ لگے، سب نے کہا کہ امریکہ معافی مانگے تو بات آگے چلے گی۔ تو آپ دیکھیں کہ داخلی معاملات ہوں یا خارجی معاملات ہوں، اس میں اتفاق رائے کی بنیاد پیدا ہوگئی۔‘

"پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تاریخی طور پر اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ ان میں کبھی اس طرح سے تسلسل نہیں رہا کہ وہ بہتری کی طرف جارہے ہیں یا وہ بالکل ختم ہورہے ہیں اور یہی ہم نے دیکھا 2011 میں جو کہ بحرانوں کا سال تھا ان تعلقات کے لیے۔ اسکے فوراً بعد 2012 میں تعلقات پھر بہتری کی طرف جانا شروع ہوگئے، تو ایک طرح سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ نے خود کو دہرایا۔"

ملیحہ لودھی

لیکن کئی لوگوں کا یہی خیال ہے کہ پارلیمنٹ کو رہنما اصول مرتب کرنے کا جو کام دیا گیا تھا وہ مجبوری کا سودا تھا اور اس کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمینٹ نے خارجہ پالیسی اور سلامتی کے امور کے فیصلے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیدیا ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ ’دیکھیں! پارلیمنٹ کے کردار کی نوعیت بڑی حد تک علامتی تھی۔ پارلیمنٹ نے اس پر جو بحث کی اسکی افادیت تو ہوسکتی ہے کہ نظرثانی کے عمل میں پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا لیکن یہ کہنا کہ اس کے نتیجے میں پالیسی میں یا پالیسی سازی کے طریقے میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے، ایسا مجھے نہیں لگتا۔‘

ہوا بھی یہی پارلیمنٹ کی سفارشات کی منظوری سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ازسرنو بحالی کی راہ ہموار ہوئی اور اسکے ٹھیک تین ماہ بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں وہ دن آیا جس کا پاکستان کو کئی ماہ سے انتظار تھا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کو فون کیا اور سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے پر کہا ’آئی ایم سوری۔‘

پاکستان نے بظاہر اپنی شرائط پر امریکہ کے ساتھ تعاون بحال کیا اور امریکہ نے بھی اسی میں عافیت سمجھی لیکن امریکہ کے ساتھ تعاون بند کرنے کے پاکستانی فیصلے اور اسکے مضمرات پر پاکستان میں رائے تقسیم ہے۔

صحافی زاہد حسین سمجھتے ہیں کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان کا امریکہ کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔

لیکن امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کچھ اور کہتی ہیں۔ ان کے بقول 2012 میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں جو بگاڑ پیدا ہوا، تاریخی اعتبار سے وہ اتنی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔

"امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تو فیصلہ پارلیمنٹ کو دیا گیا اور پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا۔ چھ سات ماہ لگے، سب نے کہا کہ امریکہ معافی مانگے تو بات آگے چلے گی۔ تو آپ دیکھیں کہ داخلی معاملات ہوں یا خارجی معاملات ہوں، اس میں اتفاق رائے کی بنیاد پیدا ہوگئی۔"

مشاہد حسین

’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تاریخی طور پر اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ ان میں کبھی اس طرح سے تسلسل نہیں رہا کہ وہ بہتری کی طرف جارہے ہیں یا وہ بالکل ختم ہورہے ہیں اور یہی ہم نے دیکھا 2011 میں جو کہ بحرانوں کا سال تھا ان تعلقات کے لیے۔ اسکے فوراً بعد 2012 میں تعلقات پھر بہتری کی طرف جانا شروع ہوگئے، تو ایک طرح سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ نے خود کو دہرایا۔‘

پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ سے سودے بازی کے تعلقات ہی رہے ہیں اور دونوں نے کبھی بھی ایک دوسرے پر پوری طرح اعتبار نہیں کیا۔ اگرچہ دو برس پہلے تک دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ پائیدار سٹریٹیجک تعلقات قائم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے لیکن بات آگے بڑھ نہ سکی۔

حسین حقانی اس وقت امریکہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت اس مذاکرات میں شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناکامی کی وجہ پاکستان میں طاقت کا وہ ڈھانچہ ہے جس میں سلامتی اور بیرونی دنیا سے تعلقات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے فوج کو حاصل ہے۔

’پاکستان میں اسٹریٹیجک پالیسی بنانے والے جو ادارے ہیں یعنی پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی، وہ جو پاکستان کا کردار دیکھتے ہیں اور خطے میں پاکستان کے لیے جو ضروری سمجھتے ہیں، وہ امریکہ اپنے قومی مفاد میں نہیں سمجھتا اور جو امریکہ اپنے قومی مفاد میں سمجھتا ہے وہ یہ حضرات پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتے، تو جب دو ملکوں کا قومی مفاد متصادم ہو یا اس میں ہم آہنگی نہ ہو تو پھر اسٹریٹیجک تعلقات کے قیام کا امکان کم ہوجاتا ہے۔‘

بالفرض اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ دونوں ملکوں کے مفادات میل نہیں کھاتے، پھر ایسا کیوں ہے کہ پاکستان، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران دس برسوں تک امریکہ کے ساتھ غیرمشروط تعاون کرتا رہا اور پچھلے سال بن لادن کی ہلاکت اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد تعاون ختم بھی کیا تو کچھ ماہ بعد امریکی معذرت پر مشروط ہی صحیح لیکن تعاون بحال کرنے پر راضی ہوگیا۔

ملیحہ لودھی کے بقول اسکی صاف سی وجہ ہے۔ ’امریکہ نے اب اپنے مقاصد کو تبدیل کیا اور وہ اب صرف القاعدہ کی شکست چاہتا ہے، طالبان کی شکست ان کے مقاصد میں شامل نہیں تو اس کی وجہ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے مقاصد میں زیادہ ہم آہنگی پیدا ہوئی۔‘

"افغانستان میں پاکستان کے کردار کے بارے میں امریکہ میں شکوک و شبہات تو بدستور موجود ہیں لیکن اب امریکی سوچ یہ رہے ہیں کہ کس طرح سے افغانستان سے نکلیں اور ٹھیک ہے کہ پاکستان کا کردار ٹھیک نہیں ہے اور ٹھیک نہیں ہو رہا لیکن ان کے ساتھ بات چیت کرکے جو تھوڑا بہت استحکام افغانستان میں چھوڑا جا سکتا ہے وہ چھوڑ دیا جائے۔"

حسین حقانی

امریکہ حالیہ برسوں کے دوران افغانستان میں پاکستان کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہے لیکن اب جبکہ اس نے اگلے دو برسوں میں افغانستان سے فوجیں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ طالبان کے ساتھ بات چیت اور مصالحت کی بھی حمایت کررہا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

تو کیا اسکا یہ مطلب لیا جائے کہ اب افغانستان میں پاکستان کے کردار کے بارے میں امریکی شکوک و شبہات دور ہوئے۔

حسین حقانی کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے افغانستان میں پاکستان کے کردار کے بارے میں امریکہ میں شکوک و شبہات تو بدستور موجود ہیں لیکن اب امریکی سوچ یہ رہے ہیں کہ کس طرح سے افغانستان سے نکلیں اور ٹھیک ہے کہ پاکستان کا کردار ٹھیک نہیں ہے اور ٹھیک نہیں ہو رہا لیکن ان کے ساتھ بات چیت کرکے جو تھوڑا بہت استحکام افغانستان میں چھوڑا جا سکتا ہے وہ چھوڑ دیا جائے۔‘

حسین حقانی کہتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کے بارے میں جو فیصلے ہونے ہیں اگر وہ پاکستان میں نہ ہوئے تو پھر بہت ساری پابندیاں اور شرطیں جو امریکی قوانین میں موجود ہیں، ان کے اطلاق کا امکان نظر آتا ہے۔

2012 کے دوران دونوں ملکوں میں تعلق ٹوٹنے کے باوجود پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تواتر سے جاری رہے اور پاکستان نے اس کے خلاف زبانی طور پر احتجاج بھی جاری رکھا۔

امریکہ سے شمسی ائربیس خالی کرائے جانے کے باوجود پاکستان میں یہ تاثر اب بھی پایا جاتا ہے کہ پاکستان اندرون خانہ ڈرون حملوں کا حامی ہے۔

پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے آنے والے برسوں کی بھی حقیقت بنے رہیں گے۔ ‘2013 میں، میں ڈرون حملوں میں کوئی کمی نہیں دیکھتا، افغانستان کے معاملے میں بات چیت کا سلسلہ جاری دیکھتا ہوں لیکن اسے کسی حل تک پہنچتے نہیں دیکھتا۔‘

اگرچہ 2011 کے مقابلے میں 2012 پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے سودمند ثابت ہوا ہے لیکن برسوں کے یارانے کے بعد بھی دونوں ملکوں میں اعتماد اور دوستی کا پائیدار رشتہ اب بھی بعید از قیاس ہی نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔