حلقہ بندیاں:عدالت سماعت پر تیار، روکنے پر نہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 07:56 GMT 12:56 PST

ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ کے چھ اکتوبر کے عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا

سپریم کورٹ نے کراچی میں حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی نظرثانی کی درخواست سماعت کے لیےمنظور کرلی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس درخواست کی سماعت کے لیے الگ سے بینچ تشکیل دینا پڑے گا۔

اس درخواست میں ایم کیو ایم نے جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ کے چھبیس اور اٹھائیس نومبر کے فیصلوں کو چیلنج گیا ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ایم کیو ایم کی طرف سے دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔

درخواست گُزار کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ چھبیس اور اٹھائیس نومبر کے سپریم کورٹ کے احکامات چھ اکتوبر کے عدالتی فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتے۔

کراچی میں امن و امان کی صورت حال سے متعلق درخواستوں اور ازخود نوٹس پر ان فیصلوں میں شہر میں ایسی نئی حلقہ بندیوں کے احکامات جاری کیے تھے جس میں کسی ایک سیاسی جماعت کی اجارہ داری نہ ہو۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ کے چھ اکتوبر کے عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جس میں قانون کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کی بات کی گئی تھی۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ چھ اکتوبر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک بینچ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں قانون کے مطابق کی جائیں جبکہ چھبیس اور اٹھائیس نومبر کے احکامات میں نئی حلقہ بندیوں کا ذکر کیا گیا۔

"پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ اُنیس سو اٹھانونے میں ہوئی تھی جس کے مطابق اُس وقت کراچی کی کُل آبادی اٹھانوے لاکھ سے زائد تھی جبکہ سنہ دوہزار بارہ میں کراچی میں امن وامان سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔"

بیرسٹر فروغ نسیم

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان تاریخوں پر دیے گئے احکامات دراصل چھ اکتوبر کے عدالتی حکم کی روشنی میں ہی دیے گئے تھے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اُنہیں چھ اکتوبر کے فیصلے پر اعتراض نہیں ہے اُنہوں نے صرف چار رکنی بینچ کے فیصلے پر عمل درآمد کو چیلنج کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کراچی میں حلقہ بندیاں دو ہزار ایک میں کی گئی تھیں۔

ایم کیو ایم کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ اُنیس سو اٹھانونے میں ہوئی تھی جس کے مطابق اُس وقت کراچی کی کُل آبادی اٹھانوے لاکھ سے زائد تھی جبکہ سنہ دوہزار بارہ میں کراچی میں امن وامان سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔

درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار آٹھ میں نئی مردم شماری پر کام شروع کیا گیا تھا جو ابھی تک نامکمل ہے۔

چند روز قبل چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی طرف سے بھی یہ بیان آیا تھا کہ عام انتخابات قریب ہیں اس لیے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہونی چاہیئیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔