کراچی سے کالعدم تنظیم کے پانچ کارکن گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 20:00 GMT 01:00 PST

ملزمان پریشر ککر، ٹینس کی بال، اور دیگر اشیاء میں بم بنانے کے ماہر ہیں: پولیس

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے ایک کالعدم تنظیم کے پانچ مشتبہ کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ پولیو ورکرز کے قتل سمیت متعدد سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔

اس بات کا انکشاف بدھ کو کراچی میں سی آئی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی شبیر شیخ نے میڈیا کے سامنے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پانچوں مشتبہ افراد سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور بارود برآمد ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کا نام ایوب خان، مہتم خان، بلال عرف مشتاق، توصیف علی اور سیف اللہ ہیں اور ان کے بقول ان تمام افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے۔

شبیر شیخ نے کہا کہ ملزمان کے خلاف گیارہ مقدمات سی آئی ڈی میں درج کیے گئے ہیں جبکہ یہ مختلف تھانوں میں درج پچاس سے زیادہ مقدمات میں بھی ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان پریشر ککر، ٹینس کی بال، اور دیگر اشیاء میں بم بنانے کے ماہر ہیں۔

ان کے بقول ملزمان کے قبضے سے پریشرککر بم، دھماکہ خیز مواد، اور غیرقانونی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں گزشتہ ماہ انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی چار خواتین ورکرز سمیت جن پانچ افراد کو قتل کیا گیا تھا اس واردات میں گرفتار ہونے والے ملزمان شامل تھے۔

ان کے بقول چند روز قبل متحدہ قومی مومنٹ کے جلسے کے بعد عائشہ منزل کے قریب ہونے والے موٹرسائیکل بم دھماکہ بھی ان ہی ملزمان کی مبینہ کارروائی تھی۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان طوری بنگش پولیس چوکی اور اجمیر نگری تھانے پر حملوں جبکہ اے این پی کے رہنماء امیر سردار کے قتل میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔