بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کا معاملہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 16:58 GMT 21:58 PST
بھارت پاک تعلقات

بھارت نے پہلے ہی پاکستان کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے رکھا ہے

بھارت کو ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ کا درجہ دینے، تجارتی تعلقات معمول پر لانے اور درآمدات پر پابندی ختم کرنے کے بارے میں اراکین پارلیمان کی جانب سے اعتراضات کے بعد وزارت تجارت نے معاملہ صدرِ پاکستان کو بھیج دیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اٹھائیس فروری سنہ دو ہزار بارہ کے فیصلے کے مطابق اکتیس دسمبر تک وزارت تجارت کو تمام فریقین سے بات چیت کے بعد بھارت سے تجارتی تعلقات معمول پر لانےکی ہدایت کی گئی تھی۔ لیکن ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود تاحال اس پر عمل نہیں ہوسکا۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ باتیں وفاقی کابینہ کے تین جنوری کے اجلاس میں کہی گئیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ’منٹس‘ اب جاری ہوئے ہیں جس کی کاپی بی بی سی کے پاس دستیاب ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ کافی سنجیدہ معاملہ ہے اور ڈیڈ لائن پر عمل ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس کا دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات پر ہوسکتا ہے۔‘

حنا ربانی کھر نے کہا کہ وزارت تجارت کو اپنا کام مکمل رکھنا چاہیے تھا اور کابینہ کو عملدرآمد کے بارے میں رپورٹ دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا ایک اہم پالسیی فیصلہ ہے اور اس کو وزارت تجارت کو غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ اگر اس بارے میں اعتراضات تھے تو انہیں بہت پہلے طے کرنا چاہیے تھا۔اس میں تو پہلے ہی ٹیرف ریشنلائیزیشن، تحفظ، ڈبلیو ٹی او رجیم کی طرف واپسی اور اینی ڈمپنگ ڈیوٹی جیسے اقدامات موجود تھے‘۔

کابینہ کے ’منٹس‘ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ جب کابینہ نے فیصلہ کرلیا تھا تو اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا۔ نیشنل ریگولیشن سروسز کی وفاقی وزیر ڈاکٹر عاشق فردوس اعوان نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری نے کہا تھا کہ وزارت تجارت نے ان کے مفادات کا خیال نہیں کیا۔

جس کے جواب میں وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے کہا کہ انہوں نے خود فارماسوٹیکل انڈسٹری اور زراعت سے وابستہ لوگوں کے نمائندوں سے خود ملاقات کی تھی۔ جس میں زراعت کے نمائندوں کے معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

وزارت تجارت کے سیکریٹری نے کابینہ کو بتایا کہ وہ ’روڈ میپ‘ پر عمل کر رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ تجارت معمول پر لانے کے لیے تین معاہدے کر چکے ہیں۔ تاہم ان کے بقول کچھ اراکانِ پارلیمان نے اعتراضات کیے ہیں کہ زراعت کے معاملے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور اس کے بعد وزارت نے یہ معاملا صدرِ پاکستان کو بھیجا ہے۔

بعض کابینہ کے اراکین نے کہا کہ جب اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی تو اب یہ کہنا کہ فریقین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، درست نہیں ہے۔ جس پر فیصلہ ہوا کہ یہ کابینہ کا فیصلہ ہے اور اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ بھارت نے پہلے ہی پاکستان کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے رکھا۔ لیکن دونوں میں محدود پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔ اب اگر پاکستان تجارت کی منفی فہرست ختم کرتا ہے تو دونوں ممالک میں تجارت کھل جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔