بھارت سے متضاد بیانات آرہے ہیں: حنا ربانی کھر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 09:43 GMT 14:43 PST

’ہم کچھ نہیں چھپا رہے اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ آزادانہ تحقیقات ہوں۔ اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے‘

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے ہندوستان کے الزامات حیران کن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ ہیں۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا ’بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات حیران کن ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ پاکستان ہمیشہ ذمہ دار بیانات دیتا ہے۔ بھارت سے لائن آف کنٹرول کے واقعے کے حوالے سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن سے چھ جنوری کو پاکستانی چوکی پر حملے کی تحقیقات کا کہا ہے۔ ’ہم کچھ نہیں چھپا رہے اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ آزادانہ تحقیقات ہوں۔ اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے۔‘

بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو تجارت کے حوالے سے وہی درجہ دیتا ہے جو ایک سو اسّی دیگر ممالک کو دیتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ دسمبر میں بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا تھا۔ اس حوالے سے حنا ربانی کھر نے کہا ’یہ درجہ دینے کا ایک عمل ہے اور چند ہفتے کی تاخیر بےمعنی ہے۔‘

اس سے قبل پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینے پر کچھ تحفظات ہیں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح پر مذاکرات جلد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے پر اتفاق کر چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے معاملے پر دونوں ممالک کے ڈی جی آپریشنز کے درمیان رابطہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دس سال بعد اس کی خلاف ورزی بد قسمتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیشکش کے حوالے سے بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔

اد رہے کہ چھ جنوری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان ایک چھڑپ میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستانی افواج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باغ کے قریب حاجی پیر سیکٹر کے علاقے میں سواں پترا چوکی پر حملہ کیا۔

تاہم بھارتی فوج کے ایک ترجمان کرنل برجیش پانڈے کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی افواج نے بھارتی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور مارٹر گولے پھینکے جن سے ایک سویلین مکان تباہ ہو گیا۔‘

اس واقعے کے بعد آٹھ جنوری کو بھارت نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوجیوں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پار کر کے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ فوج کے ترجمان کرنل جے دہیا کے مطابق ایک فوجی کا سر قلم کیاگیا ہے۔

تاہم پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بھارتی ہم منصب سے ہاٹ لائن پر گفتگو کی اور پاکستان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور ایک بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔