’حکومت سرحد پر گولیاں چلنے کا نوٹس لے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 12:35 GMT 17:35 PST

قومی ادارے تباہ ہوچکے ہیں، نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (نون) کے قائد میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ دنیا میں صرف پاکستان اور بھارت ہی وہ ملک ہیں جہاں آج بھی سرحدوں پرگولیاں چلائی جاتی ہیں جمہوری حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سرحد پر اس طرح کے واقعات نہیں ہونے چاہیے اور اس بات پر غور کیا جائے کہ یہ کیا اور کیوں ہو رہا ہے؟ جہوری حکومتیں مل بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کریں۔

لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری کے لانگ مارچ سے متعلق نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کے اتحادی بھی لانگ مارچ کر رہے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ کیا نظریہ ہے؟

انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم چودھری پرویز الہی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی ہمدردیاں لانگ مارچ کے ساتھ ہیں یہ دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ عوام دیکھیں کہ یہ لوگ کس قسم کی سیاست کر رہے ہیں۔ ایک طرف جمہوریت کی بات اور دوسری طرف ان آمروں سے بھی ہمددردی جو جہموریت کی بساط لپیٹنا چاہتے ہیں۔

"نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الہی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی ہمدردیاں لانگ مارچ کے ساتھ ہیں یہ دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ عوام دیکھیں کہ یہ لوگ کس قسم کی سیاست کر رہے ہیں۔ ایک طرف جمہوریت کی بات اور دوسری طرف ان آمروں سے بھی ہمددردی جو جہموریت کی بساط لپیٹنا چاہتے ہیں۔"

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف

مسلم لیگ (نون) کے قائد کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کیا گیا جو پاکستان کی خود مختاری پر حملہ تھا تاہم اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایبٹ آْْْْْْْْْْْْْْْْباد کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر نہیں لائی جاسکی جب ملک ایسے چلایا جائے گا تو ایسی باتیں تو ہوں گی۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کر رہی ہے لیکن اس سے بھی اچھا ہوتا اگر جمہوری حکومت عوامی توقعات پر بھی پر پورا اترتی۔ اگر جمہوریت عوام کے مسائل نہیں کر پائے گی تو تمام سیاسی قوتوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بلوچستان کی صورت حال سے متعلق نوازشریف نے کہا کہ اگر صوبے میں اصل قیادت کو سامنے آنے دیا جائے اور اسے دیوار کے ساتھ دھکیل کر دوسروں کو آگے لانے کی کوششیں نہ کی جائیں تو بلوچستان کے تمام مسئلے حل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (نون) آئندہ انتخابات کے بعد مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو ہم بلوچستان میں اصلی مینڈیٹ کا احترام کریں گے بھلے وہاں ہماری حکومت نہ بھی بن پائے ۔

نواز شریف کے مطابق اگر حکومت اپنی ذمہ داری درست طریقے سے نبھائے تو سپریم کورٹ کو ہر معاملے میں مداخلت نہ کرنی پڑے۔

انہوں نے کہا شاہ زیب کے قاتلوں کو سپریم کورٹ کے کہنے پر ہی گرفتار کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے کیا کر رہے تھے؟۔

کراچی کے حالات کی ذمہ دار بھی حکومت ہے اگر وہ اپنا فرض ادا کرتی تو یہ حال نہ ہوتا۔ قتل و غارت اور بھتے نے لوگوں کا جینا محال کررکھا ہے، غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آنے کے بجائے دبئی کو ترجیع دیتے ہیں، جتنی لاشیں روزانہ پاکستان میں گرتی ہیں کہیں اور نہیں گرتیں۔

مسلم لیگ (نون) کے قائد کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے پانچ برس میں نہ تو بجلی اور گیس کا مسئلہ حل کیا اور نہ ہی اقتصادی صورت حال کو بہتر کیا۔ ہم مجموعی ملکی پیدوار کے حوالے سے خطے میں پسماندہ ترین ہیں جبکہ قومی ادارے تباہ ہوچکے ہیں اور عوام کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ ہم نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے پیپلزپارٹی سے تعاون کیا لیکن جلد میثاق جمہوریت این آر او میں تبدیل ہوگیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔