کوئٹہ میں تین دھماکے، ترانوے افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 18:43 GMT 23:43 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو ہونے والے ایک خودکش حملے اور دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ترانوے تک پہنچ گئی ہے۔

ادھر شہر کی تاجر تنظیموں اور شیعہ برادری کی اپیل پر دھماکوں کے خلاف جمعہ کو کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس کے ایک ڈی ایس پی مجاہد اور ایک ایس ایچ او جعفر خان سمیت نو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے نجی ٹی وی سماء کے نامہ نگار سیف الرحمان، ایک کیمرہ مین عمران شیخ اور نیوز ایجنسی این این آئی کے فوٹوگرافر اقبال بھی اس دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں۔

شہر میں پہلا دھماکہ جمعرات کی شام میزان چوک پر اور پھر رات میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے علمدار روڈ پر ہوئے۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر محمود نے جمعرات کی شب ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ علمدار روڑ پر ہونے والے دھماکوں میں اب تک اکیاسی افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ میزان چوک پر دھماکے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔

پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ عملدار روڑ پر ہونے والا پہلا دھماکہ خودکش تھا جس کے کچھ دیر بعد کار میں نصب بم پھٹا۔

سی سی پی او کوئٹہ کے بقول ہلاک ہونے والے افراد میں سے پچیس کی تاحال شناخت ہو سکی ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا خودکش بم حملہ تھا جب کہ دوسرا دھماکہ ایک گاڑی میں ہوا ہے اور اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ ریموٹ کنٹرول دھماکہ تھا یا خودکش کار بم دھماکہ تھا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کی رات ہونے والا پہلا دھماکہ علمدار روڈ پر ایک امام بارگاہ کے قریب واقع سنوکر کلب میں ہوا اور یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں تین منزلہ عمارت جس میں یہ کلب واقع تھا، زمیں بوس ہو گئی۔

پہلا خودکش بم حملہ تھا جب کہ دوسرا دھماکہ ایک گاڑی میں ہوا

دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع ہو گئی جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

بلوچستان کے ہوم سیکریٹری اکبر حسین درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد جب امدادی کارکن اور میڈیا کے نمائندے جائے حادثہ پر پہنچے تو ایک اور دھماکہ ہوا جس میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

دوسرے دھماکے میں ہی پولیس کے نو اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے تین افراد مارے گئے جبکہ اسی دھماکے میں فلاحی ادارے ایدھی کے چار امدادی کارکن بھی ہلاک ہو گئے جو امدادی کارروائیوں کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے تھے۔

دھماکے سے موقع پر موجود ایمبولینسوں اور ذرائع ابلاغ کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس سے قبل شہر کے مرکزی علاقے میں میزان چوک پر ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور چونتیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ایف سی کا اہلکار جبکہ دو سول ملازمین بھی شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں میں ایف سی کے دس اہلکار شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اس دھماکے کا ہدف ایک ایس پی کی گاڑی تھی اور یہ دھماکہ ایف سی کی ایک چوکی کے قریب ہوا جہاں ایک گاڑی کے نیچے ایک ٹائمر ڈیوائس لگا کر دھماکہ کیا گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے لیے پچیس سے تیس کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔اس دھماکے کی زمہ داری یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبل کر لی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔