پشاور کے قریب لیویز کی چوکیاں خالی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 11:38 GMT 16:38 PST

اس وقت اس سرحدی علاقے کے بعض مقامات پر فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی سے ملحق ایف آر پشاور کے علاقے میں لیویز اہلکاروں کے اغوا اور پھر ان کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد لیویز اہلکاروں کی چوکیاں خالی پڑی ہیں اور بعض مقامات پر فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کر دیےگئے ہیں۔علاقے میں سخت خوف و حراس پایا جاتا ہے اور بعض دیہاتوں سے لوگوں نے نقل مکانی بھی شروع کر دی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے ایف آر پشاور میں حسن خیل کے علاقے میں اکیس لیویز اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد دیگر اہلکاروں نے ڈیوٹی پر جانے سے انکار کردیا تھا جس کے وجہ عملی تربیت کی کمی اور محدود مقدار میں اسلحہ بتایا گیا تھا۔ ان لیویز اہلکاروں کے لیے کوئی باقاعدہ محفوظ چوکیاں بھی قائم نہیں کی گئی تھیں اور جس کمرے میں یہ لوگ آرام کے لیے رہتے تھے اس کے دروازے یا باقاعدہ چار دیواری بھی نہیں تھی۔

پولیٹکل انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ لیویز کے اہلکاروں کو بلوا کر چوکیوں اور ان کے لیے دیگر مورچوں کی باقاعدہ تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرمت کے بعد ان اہلکاروں کو دوبارہ اپنی جگہوں پر تعینات کر دیا جائےگا۔ اس وقت اس سرحدی علاقے کے بعض مقامات پر فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کیےگئے ہیں۔

اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوالات ہیں کہ تیئس سیکیورٹی اہلکاروں یعنی لیویز کو مخالف اتنی آسانی سے کیسے اغوا کر کے لے گئے؟ جبکہ اس بارے میں چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ کیا لیویز اہلکار لڑنا نہیں چاہتے تھے؟ یا ان کے پاس اسلحہ نہیں تھا کہ حملہ آوروں سے مقابلہ کرتے؟ یا حملہ آور انھیں دھوکے سے لے گئے؟ یہ سب مختلف باتیں علاقے میں ہو رہی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ شدت پسندوں میں مقامی لوگ بھی شامل تھے اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے لوگ بھی شامل تھے جبکہ لیویز اہلکار تمام مقامی تھے اس لیے دونوں جانب سے مقامی افراد میں کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

یاد رہے ستائس دسمبر کو رات کے وقت تیئس لیویز اہلکاروں کو مسلح شدت پسند اغوا کر کے ساتھ لےگئے تھے جبکہ دو اہلکاروں نے ایک چوکی پر مزاحمت کی اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد انھیں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان تیئس اہلکاروں پر اغوا کے دو روز بعد فائرنگ کی گئی جن میں اکیس ہلاک ، ایک زخمی اور دو معجزانہ طور پر بچ گئےتھے۔ زخمی اہلکار سے کسی کو ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی اور یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ انتہائی خوفزدہ ہے ۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ وقوعہ سے کچھ روز پہلے شدت پسندوں کے کچھ ساتھی جاسوسی کے لیے لیویز اہلکاروں سے دوستیاں بنانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں ۔

جس روز واقعہ پیش آیا اس وقت لیویز اہلکاروں کے پاس صرف دس بندوقیں تھیں اور ان کے پاس کارتوس نہ ہونے کے برابر تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سن دو ہزار دس میں کوئی ڈھائی سو لیویز اہلکار ایف آر پشاور کے مختلف علاقوں میں تعینات کرنے کے لیے بھرتی کیےگئے تھے انھیں صرف تین ماہ کی تربیت فراہم کی گئی تھیں اور تمام اہلکاروں کے لیے صرف نواسی بندوقیں دی گئی تھیں۔ ان کے لیے کوئی باقاعدہ مورچے نہیں تھے اور نہ ہی ایسی چوکیاں جہاں ڈیوٹی نہ ہونے پر یہ کچھ دیر بغیر کسی خطرے کے آرام کر سکیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ کہ تعیناتی کے بعد بیشتر اہلکار کم سہولیات کی وجہ سے ڈیوٹی پر نہیں جا رہے تھے لیکن چند ماہ ہی پہلے پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے انھیں ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

جس روز واقعہ پیش آیا اس وقت صرف ایک چوکی پر دو اہلکاروں نے مزاحمت کی اور باقی سب خاموشی سے کسی مزاحمت کے بغیر اغوا کاروں کے ساتھ روانہ ہوگئے تھے۔ شدت پسندوں نے جاتے وقت ہوائی فائرنگ کی تھیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ اغوا کارروں کی تعداد کوئی زیادہ نہیں تھی بلکہ یہ صرف سولہ تھے لیکن ان کے پاس بھاری سلحہ ضرور تھا۔

اس علاقے سے ایک شخص نے بتایا ہے کہ اہلکاروں کے ذہن میں یہ تھا کہ شاید مقامی ہونے کی وجہ سے چند روز بعد انھیں رہا کر دیا جائےگا یا قبائلی جرگوں کے ذریعے انھیں چھوڑ دیا جائے گا۔

پولیٹکل انتظامیہ نے بھی ان اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مقامی قبائلی رہنماؤں پر دباؤ ڈالا تھا جو بقول مقامی لوگوں کے ان کے بس کی بات نہیں تھی اس سے مقامی قبائلی اہلکاروں اور پولیٹکل انتظامیہ کے مابین بھی صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔

اب علاقے میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے حسن خیل میں بعض دیہات کے کچھ لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور بیشتر نے پشاور کے مختلف علاقوں میں مکان کرائے پر حاصل کیے ہیں اور یا رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔ ان کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاع ہیں تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ تیس سے ساٹھ خاندان نقل مکانی کرکے پشاور چلے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔