کوئٹہ: تدفین مکمل، ’سات ابھی بھی لاپتہ‘

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 12:21 GMT 17:21 PST

دھرنے ختم، تدفین مکمل

بلوچستان میں گورنر راج کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد سانحۂ کوئٹہ میں ہلاک ہونے والے ہزارہ برادری کے تراسی افراد کی نماز جنازہ اور تدفین ہو گئی ہے۔

بلوچستان شیعہ کونسل کے رہنما آغا داؤد نے بی بی سی نے کو بتایا کہ ’83 لاشوں کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ سات افراد کی لاشیں لاپتہ ہیں جو تلاش کرنے کے باوجود ابھی تک نہیں ملیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایک لاش کی شناخت نہیں ہو سکی تھی تو اسے ہسپتال بھیج دیا گیا۔‘

داؤد آغا نے بتایا کہ وہ ان کو ابھی تک مہیا کی گئی سکیورٹی سے مطمئین ہیں۔

کوئٹہ میں مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ لاشوں کی تدفین کے وقت سکیورٹی کا سخت انتظام کیا تھا اور بھاری تعداد میں پولیس اور ایف سی کے اہل کار تعینات کیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد تدفین میں شامل ہوئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

کراچی سے ہمارے نمائندے کے مطابق کوئٹہ سے 28 زخمی آغا خان ہسپتال منتقل کیے گئے ہیں جن میں سے تین انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہیں۔

آغا خان ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے لائے گئے زخمی تمام مرد حضرات ہیں۔ ان میں سے پچیس زخمی میڈیکل وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

سوموار کو صدر پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کوئٹہ میں تین دن سے جاری دھرنا بھی ختم ہو گیا ہے جبکہ ملک بھر میں جاری دھرنے بھی یکے بعد دیگرے ختم کیے جا رہے ہیں۔

کوئٹہ میں علمدار روڈ پر دھرنے کے خاتمے کا اعلان ایک جلسے میں کیا گیا جس کے بعد میتوں کو بہشتِ زینب ہزارہ قبرستان لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہزاروں افراد بہشتِ زینب ہزارہ قبرستان میں ہونے والی تدفین کے وقت موجود تھے ۔

اس سے قبل اتوار کو سانحۂ کوئٹہ کے خلاف پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے ہڑتال کے لیے دی گئی کال پر اتوار کو کوئٹہ کے تمام تجارتی مراکز بند رہے تھے جبکہ کوئٹہ کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے اور دعائیہ تقریبات جاری رہیں۔

تدفین کا عمل کئی گھنٹے تک جاری رہے گا

واضح رہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے یکجہتی کے اظہار کے لیے اسلام آباد میں سینیچر کی سہ پہر سیکٹر ایف سکس کی سپر مارکیٹ کے سامنے شروع ہونے والا احتجاجی دھرنا بھی پیر کی صبح تک جاری رہا۔

اس مظاہرے میں ہزارہ برادری کے علاوہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شریک ہوئے۔ عام شہریوں کے علاوہ نمایاں سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات بھی اتوار کو دھرنے پر بیٹھے افراد کی حمایت کا اظہار کرنے کے لیے موقع پر آتی رہیں۔

سپر مارکیٹ کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی شاہراہ اسلام آباد ہائی وے پر فیض آباد کے مقام پر بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے دھرنا دیا تھا۔

کراچی سمیت صوبہ سندھ کے متعدد شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا۔

کراچی میں شیعہ علماء کونسل اور وحدت المسلمین کی جانب سے سب سے بڑا دھرنا پرانی نمائش پر ایم اے جناح روڈ پر دیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ مظاہرین نے ملیر کے علاقے میں دھرنا دے کر قومی شاہراہ کو بھی بند کر دیا جبکہ فیڈرل بی ایریا میں انچولی کے مقام پر بھی سینکڑوں افراد نے دھرنا دیا تھا۔

ان دونوں علاقوں کے علاوہ کلفٹن میں بلاول ہاؤس کے سامنے سینکڑوں افراد اتوار کی شام جمع ہوئے اور بلوچستان میں ہزارہ برادری کے ساتھ سلوک پر صدائے احتجاج بلند کی تھی۔

بلوچستان میں گورنر راج

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد صوبہ بلوچستان میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا جس کے بعدگورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کی رات ہی صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کی جانب سےآئین کے آرٹیکل 234کے تحت بھیجی گئی سمری پر دستخط بھی کر دیے جس کے بعد گورنر راج عملی طور پر نافذ ہوگیا۔

کوئٹہ سے مقامی صحافی محمد کاظم کے مطابق وزیراعظم نے گورنر راج کے نفاذ کا اعلان اتوار کو کوئٹہ میں ساٹھ گھنٹے سے پچھہتر میتوں سمیت دھرنا دینے والے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کیا۔

پنجابی امام بارگاہ میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے پہلے ہلاک شدگان کے لیے فاتحہ خوانی کی جس کے بعد انہیں ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کے نفاذ کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تحلیل کر دی جائے گی اور ’جب آپ صبح اٹھیں گے تو صوبے میں گورنر راج نافذ ہوگا اور گورنر ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوں گے‘۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ گورنر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سانحے کے ذمہ داران کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائیں گے اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اس موقع پر ہزارہ برادری کے نمائندوں نے وزیراعظم سے کوئٹہ میں فوج کی تعیناتی پر بھی اصرار کیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد کوئٹہ کے کور کمانڈر گورنر مگسی کے احکامات کے پابند ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں فرنٹیئر کور کو پولیس کے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں اور انتظامیہ جب چاہے مدد کے لیے فوج بھی طلب کر سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورکمانڈر ایف سی کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائےگا۔

’بلوچستان کا مسئلہ الگ نہیں ہوسکتا‘

’بلوچستان کا مسئلہ الگ نہیں ہوسکتا‘

’بلوچستان کا مسئلہ الگ نہیں ہو سکتا‘

’بلوچستان کا مسئلہ الگ نہیں ہو سکتا‘

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاج کے حوالے سے صحافی علی احمد خان نے سیربین میں ہماری ساتھی عنبر خیری سے بات چیت کی۔

’ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے‘

’ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے‘

’ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے‘

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سراپا احتجاج رہے۔ احتجاج کرنے والوں میں خواتین بھی موجود ہیں۔ مظاہرے میں موجود سائرہ بتول نے سیربین میں ہماری ساتھی تابندہ کوکب سے بات چیت کی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔