’فوج موجود مگر سکیورٹی کی صورتحال بدتر‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 23:58 GMT 04:58 PST
ثمینہ احمد

آپریشن کے تین برس بعد بھی انتہاپسند وہاں موجود ہیں:ثمینہ احمد

جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں تحقیق کرنے والی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے علاقے سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں فوج انتظامی اور سکیورٹی کے اختیارات مکمل طور پر صوبائی حکومت کے حوالے کرے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے سوات، دیر، چترال، کوہستان اور مالا کنڈ کے اضلاع صوبے کے زیرانتظام قبائلی علاقوں یا پاٹا میں شامل ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ پاٹا کو تین برس پہلے انتہاپسندی سے پاک کرنے کے لیےفوجی آپریشن کیا گیا مگر ان علاقوں میں فوج کی موجودگی کے باوجود سکیورٹی کی صورتحال بدتر ہے۔

تنظیم کے مطابق دو ہزار آٹھ اور نو میں انتہا پسند گروہ تحریک نفاذ شریعت محمدی اور مولوی فضل اللہ سے منسلک پاکستانی طالبان سوات اور ان علاقوں میں زیادہ مضبوط تھے اور وہ اب تک سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ادارے کی سربراہ ثمینہ احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’فوج سن دو ہزار نو میں ان علاقوں میں یہ واحد ذمہ داری لے کر گئی تھی کہ سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے اور انتہا پسندوں کو وہاں سے ختم کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا ’تاہم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی ملالہ یوسف زئی پر حملہ پھر مینگورہ میں گزشتہ ماہ دہشت گرد حملہ بلکہ آئے دن ان علاقوں میں بم دھماکہ ہوتے رہتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپریشن کے تین برس بعد بھی انتہاپسند وہاں موجود ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فوج اپنی واحد ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے لیکن اس کے باوجود تمام امور اب تک اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے جس سے شہریوں کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں ‘۔

اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’قانون کو مستحکم بنانا صوبائی حکومت کا کام ہوتا ہے فوج کا نہیں اور اختیارات کی منتقلی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں قانونی بحران کی سی صورت معلوم ہوتی ہے‘۔

تاہم صوبہ خیبرپختواخو میں حکمران جماعت عوامی نشنل پارٹی کے سینٹر زاہد خان نے فوج کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’میں بھی نہیں چاہتا کہ فوج وہاں رہے مگر دو ہزاز نو کے آپریشن کے بعد انتہاپسندوں نے افغان صوبے نورستان میں پناہ لے لی ہے جہاں سے وہ حملے کر رہے ہیں۔ انہی حملوں کو روکنے کے لیے فوج موجود ہے اور جانی نقصان بھی اٹھا رہی ہے‘۔

نہیں چاہتا کہ فوج وہاں رہے مگر

"میں بھی نہیں چاہتا کہ فوج وہاں رہے مگر دو ہزاز نو کے آپریشن کے بعد انتہاپسندوں نے افغان صوبے نورستان میں پناہ لے لی ہے جہاں سے وہ حملے کر رہے ہیں۔ انہی حملوں کو روکنے کے لیے فوج موجود ہے اور جانی نقصان بھی اٹھا رہی ہے"

سینٹر زاہد خان

اس سلسلے میں تنظیم انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی جانب سے شائع ہونے والی ساٹھ صفحوں پر مشتمل تازہ رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ پاٹا میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے وہاں لاگو نظام عدل قانون دوہزاز نو اور ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور یا (اے اے سی پی) کو ختم کیا جائے اور ان علاقوں کو مکمل طور پر صوبہ خیبرپختواخوا میں شامل کیا جائے۔

اس سلسلے میں تنظیم کی اہلکار ثمینہ احمد کہتی ہیں کہ ’طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد لاگو کیے گیے نظام عدل قانون سے معاشرے میں عدل نہیں آیا، لوگوں کو انصاف نہیں ملا اور انتہا پسندوں کو سزا نہیں ملی‘۔

ان کے مطابق اگر اس قانون کے ثمرات نظر آ رہے تھے تو حکومت کو ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور قانون دو ہزاز گیارہ اور بارہ متعارف کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ثمینہ کے مطابق ’اے اےسی پی قانون کے ذریعے فوج کی جانب سے سرزد ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ غیر معینہ مدت تک کسی بھی شہری کو حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے‘۔

لیکن سینٹر زاہد خان کے مطابق ’فوج کی جانب سے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے محض اکا دکا واقعات رونما ہوئے ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزاز نو سے لے کر اب تک فوج کی حراست میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہیں جن پر دہشت گردی کا شبہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزستہ تین برسوں میں پاٹا کے ان علاقوں سے لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تین برسوس میں دو سو تیس سے زیادہ افراد مشکوک طریقےسے ہلاک ہوئے ہیں۔ دو ہزاز دس میں ایک ایسی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں فوج کے اہلکار متعدد شہریوں کو قطار میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوج نے مذکورہ ویڈیو کو جعلی ویڈیو قرار دیا تھا۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فوج کی جانب سے انتہاپسندی روکنے کی ناقص پالیسوں، قابل احستاب اور مضبوط شہری حکومت کو بحال کرنے کی ناکام کوششوں کی وجہ سے پاٹا کے شہریوں اور ریاست کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب وفاقی اور صوبائی حکومت بھی سکیورٹی کے بارے میں شہریوں کے غور طلب خدشات پر مکمل توجہ نہیں دے رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔