’ہم وصیت لکھ کر آئے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

توصیف قادری اپنی والدہ، بہن، بیوی اور چار بچوں کے ہمراہ اپنے خرچ پر آئے ہیں

ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے متعدد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ وصیت لکھ کر آئے ہیں کہ لانگ مارچ میں ان کے مرنے کی صورت میں اُن کی تمام جائیداد منہاج القران کو دی جائے۔

توصیف قادری بھی ایسے افراد میں سے ایک ہیں جو اپنے شیر خوار بچوں اور پورے اہلخانہ کے ہمراہ لانگ مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔

پنجاب کے جنوبی علاقے بہاولپور سے تعلق رکھنے توصیف قادری جو کہ اپنا نجی کاروبار کرتے ہیں، اپنی والدہ، بہن، بیوی اور چار بچوں کے ہمراہ اپنے خرچ پر اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنے کاروبار کا بڑا حصہ فروخت کر کے اس لانگ مارچ میں شرکت کر رہے ہیں اور وہ اُس وقت تک اس لانگ مارچ کے بعد دیے جانے والے دھرنے سے نہیں اُٹھیں گے جب تک اُن کے قائد (طاہرالقادری) اُنہیں گھروں کو واپس جانے کا حکم نہیں دیتے۔

توصیف قادری نے بتایا کہ اُن کے گھر کے تمام افراد اس لانگ مارچ میں شریک ہیں اور اُنہیں نہیں معلوم کہ اُن کے اہلخانہ کو دیگر مظاہرین کے ساتھ کتنا عرصہ اسلام آباد میں رُکنا پڑے گا۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اس سرد موسم میں شیر خوار اور کمسن بچوں کے ساتھ اس لانگ مارچ میں کیوں لے کر آئے تو توصیف احمد کا کہنا تھا کہ’اگر موسم کے اثرات کی وجہ سے اُن کے بچے بیمار یا حتی کہ ہلاک بھی ہو جاتے ہیں تو اُنہیں اس کا غم نہیں ہے‘۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کے دو بچے سکول جاتے ہیں لیکن اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے انہیں سکول نہیں بھجوایا گیا۔

توصیف احمد کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنی وصیت علاقے میں منہاج القرآن کے دفتر میں جمع کروادی ہے اس کے علاوہ گھر اور کاروبار کے کاغزات بھی جمع کروا دیے گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کی وصیت اُنہوں نے اکیلے نہیں کی بلکہ اس طرح کی وصیت علاقے کے اور لوگوں نے بھی کی ہیں جو اُن سے پہلے اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔

پچھہتر سالہ محمد لطیف اُن افراد میں شامل ہیں جو اپنے شیر خوار نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ اس لانگ مارچ میں شریک ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ موسم کی سختی اور اُن کے عزائم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ان بچوں کا کیا معلوم کہ لانگ مارچ کا مقصد کیا ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ان بچوں کو لانے کا مقصد اپنے قائد کو خوش کرنا ہے۔

اگرچہ شیر خوار بچوں کی مائیں گرم کپڑے بھی اپنے ساتھ لائی ہیں لیکن موسم کی شدت کے لحاظ سے کافی دکھائی نہیں دیتے۔رات کے وقت اسلام آباد میں بالخصوص کُھلے آسمان تلے موسم شدید سرد ہو جاتا ہے۔

مظاہرے میں شریک خواتین کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے مطابق مائیں ایک ہزار سے زائد شیر خوار بچوں کو اپنے ساتھ لے کر آئی ہیں۔

اسلام آباد میں واقع تین سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورت حال نافذ کی گئی ہے اور عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔