اپنا حق لیے بغیر نہیں جائیں گے: طاہر القادری

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 08:33 GMT 13:33 PST

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں ہزاروں افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سات نکاتی ایجنڈے کا آخری نکتہ اسمبلیوں کی تحلیل ہے آور وہ اپنا حق لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ کسی غیر آئینی اقدام یا جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے منگل کی صبح ملک کی موجودہ صورتحال پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور میاں نواز شریف سمیت اہم سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کی ہے۔

اس مشاورت میں تمام رہنماؤں میں آئین اور جمہوری نظام کے تحفظ پر اتفاقِ رائے پایا گیا اور سیاسی قیادت اس بات پر بھی متفق نظر آئی کہ آئین کو نقصان پہنچانے، جمہوری عمل کو ختم کرنے یا کوئی بھی غیرآئینی اقدام کرنے کی کوششوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اسے اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

اسی ضمن میں سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بروقت عام انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور عام انتخابات میں تاخیر کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔

اسلام آباد کے ڈی چوک میں جاری جلسے میں طاہر القادری نے کہا وہ اُس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک اُن کے سات نکاتی مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ’اگر میں اپنے کارکنوں کو حکم دوں تو وہ ایوانوں پر قبضہ کر لیں گے مگر ہم اسلام آباد پر قبضہ کرنے نہیں آئے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک قانونی مارچ ہے جس کا مقصد ملک کو تباہی سے بچانا ہے اور ہم حقیقی جمہوریت کے خواہاں ہیں جبکہ پاکستان میں صرف دو ادارے کام کر رہے ہیں ایک فوج اور دوسرا عدالت عظمیٰ ہے‘۔

طاہر القادری نے اپنے اردو میں مختصر خطاب کے بعد انگریزی میں خطاب شروع کیا جس میں انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات کو انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ لانگ مارچ ختم ہو چکا اور اب ملک میں انقلاب کا آغاز ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام نے حکومت کو ووٹ کی شکل میں جو مینڈیٹ دیا تھا وہ احتجاج کی شکل میں واپس لے لیا ہے اور اب پارلیمان کے سامنے عوام کی اسمبلی لگے گی۔

ان کے اس اعلان کے بعد لانگ مارچ میں شامل افراد سکیورٹی حصار توڑنے کے بعد اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے واقع ڈی چوک میں پہنچ گئے تھے۔

ان مظاہرین اور پولیس کے درمیان کچھ دیر کے لیے تصادم ہوا جس میں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں تھانہ بارہ کہو کے انچارج انسپکٹر محبوب بھی شامل ہیں۔

پولیس زرائع کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پہلے فائرنگ کی اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کو روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں چھ مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

طاہر القادری نے جلسہ گاہ میں موجود افراد سے مطالبات کی منظوری تک دھرنے پر بیٹھے رہنے کا حلف لیا

وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے اس سے پہلے کہا تھا کہ طاہر القادری ساتھیوں سمیت جتنے دن چاہیں بیٹھے رہیں لیکن انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

طاہر القادری کا ’جمہوریت مارچ‘ اتوار کی دوپہر لاہور سے شروع ہوا تھا اور وہ تقریبًا چھتیس گھنٹے کے سفر کے بعد پیر کو رات گئے مارچ کے ہزاروں شرکا کے ہمراہ اسلام آباد میں پارلیمان کی جانب جانے والی سڑک جناح ایونیو پر پہنچے جہاں جلسے کا انتظام کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے گزشتہ رات سٹیج پر آتے ہی کہا کہ وہ ابھی خطاب نہیں کر رہے بلکہ انتظامیہ کو پانچ منٹ کی مہلت دے رہے ہیں کہ ان کا سٹیج پارلیمان کے سامنے ڈی چوک میں منتقل کیا جائے اور وہ وہیں خطاب کریں گے۔

انہوں نے وزیر داخلہ رحمان ملک پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے جلسے کے لیے شاہراہِ دستور پر ڈی چوک کی جگہ دینے کا وعدہ کیا تھا جس سے انہوں نے انحراف کیا ہے۔

دی گئی مہلت ختم ہونے کے کچھ دیر بعد مارچ کے شرکاء نے سعودی پاک ٹاور کے سامنے لگائے گئے کنٹینر زبردستی ہٹا دیے اور ڈی چوک پر پہنچ گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انتظامیہ نے طاہرالقادری کو ڈی چوک سے کچھ پہلے نیا سٹیج بنانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے منگل کی صبح پاکستان کے نجی ٹی وی جیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تصادم اور تشدد نہیں چاہتی اس لیے طاہر القادری اور ان کے حامیوں کو ڈی چوک کے نام سے مشہور چوک میں جگہ دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ڈی چوک میں جلسہ کرنے کی تو اجازت دی گئی ہے لیکن کسی کو ریڈ زون میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ’وہ دو دن بیٹھیں یا دس دن ہمیں اس سے مسئلہ نہیں لیکن انہیں ریڈ لائن عبور نہیں کرنے دی جائے گی۔‘

اس سے قبل طاہر القادری نے پیر کی شب اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔