پشاور: باڑہ کے ہلاک شدگان کے ورثاء کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST

خیبر ایجنسی میں اس سے پہلے بھی کئی لاشیں مل چکی ہیں جن کے ورثاء اب احتجاج کر رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے قریب سے ملنے والی اٹھارہ لاشوں کو لے کر ورثاء پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچے ہیں جہاں ان کا احتجاج جاری ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر نے خیبر ایجنسی میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے حوالے سے خودمختار انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق گورنر نے یہ اعلان مظاہرین کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے لیکن مظاہرین نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فائرنگ میں ملوث عناصر کو فوری طور پر سزا نہیں دی جاتی۔

وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا سے کہا ہے کہ مظاہرین کے شکایات سن کر انھیں فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

گورنر بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا کہ خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن ختم کرنے کے لیے قبائلی رہنماوں پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے موجود ہیں اگر قبائل یہ ذمہ داری لیں کہ وہاں حالات صحیح رہیں گے تو فوج ایک دن بھی وہاں نہیں رکے گی۔

دوسری جانب دھرنے میں شامل مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا خیبر ایجنسی میں آپریشن ختم کیا جائے اور فوج کو علاقے سے نکالا جائے جبکہ قبائلیوں کے تمام معاملات روایتی جرگے کے ذریعے حل کیے جائیں اور شدت پسند تنظیموں سے مذاکرات کیے جائیں۔

بدھ کی صبح باڑہ سے اٹھارہ لاشیں لیے سینکڑوں مظاہرین پشاور پہنچے۔ باڑہ روڑ پر مظاہرین نے سخت نعرے بازی کی اور اشتعال میں آ گئے۔ اس موقع پر بھاری تعداد میں پولیس کے اہلکار تعینات تھے۔

مظاہرین لاشیں لے کر پہلے پشاور پریس کلب کے سامنے آئے اور پھر لاشیں لے کر گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچے جہاں انھوں نے دھرنا دیا ہے۔

گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا اور لوگوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں تھی مگر ورثاء اب بھی وہیں موجود ہیں۔

علاقے کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ ناصر خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ علاقے سے متعدد لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جن کو لے کر ان کے ورثاء پشاور گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے گئے تھے۔

گزشتہ رات باڑہ میں اٹھارہ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ وردی پہنے ہوئے افراد نے فائرنگ کی جس سے یہ لوگ ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان محمد الیاسں نے بتایا کہ’وردی پہنے ہوئے افراد ان کے گھر آئے اور ان کے بھائی کو ہلاک کیا ہے جبکہ وہ خود اس میں زخمی گئے تھے‘۔

سکیورٹی حکام نے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر ایجنسی میں تین روز سے سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق عالم گودڑ میں کل نا معلوم افراد نے سکیورٹی اہلکاروں کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ سال بھی ایک فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہو کر پشاور کے قریب جلوزئی کیمپ پہپنچے تھے۔

خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر ایک طرف شدت پسند تنظیم لشکر اسلام اور حکومت کی حمایتی تنظیم کے مابین جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں تو دوسری جانب شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکار بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔