’بلاتاخیر عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 16:14 GMT 21:14 PST

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلاتاخیر عام انتخاب کے جامع اور دو ٹوک شیڈول کا اعلان کیا جائے۔ دوسری جانب پاکستان کی حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

حکومت عام انتخابات کا اعلان کرے

تمام قومی معاملات آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے طے کیے جائیں: میاں نواز شریف

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مسلم لیگ نون سمیت حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاتاخیر عام انتخاب کے جامع اور دو ٹوک شیڈول کا اعلان کیا جائے۔

یہ مطالبہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والے حزب مخالف کی جماعتوں کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے کہا کہ اجلاس میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر عام انتخابات کےجامع اور دوٹوک شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے نگران حکومت کے قیام اور انتخابات کی تاریخوں کا واضح تعین کرے۔

اس اجلاس میں جماعت اسلامی کے سید منور حسن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کے علاوہ بعض دوسرے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نے اعلان کیا کہ آئین اور جمہوریت پر حملہ آور ہونے والی قوتوں کی بھر پور مزاحمت کی جائے گی۔

لاہور میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کو پارلیمان کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کا بھر پور اعتماد حاصل ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو متنازع بنانے سے انتخابات کے بروقت انعقاد کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔

" منہاج القرآن کے ڈاکٹر طاہر القادری نے ان تمام سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر سے جوڑ دیا ہے جو سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے موقع پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئی تھیں۔اس وقت اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ نون اور جے یو آئی انتخابات میں حصہ لینا چاہتی تھی جبکہ دیگر جماعتیں بائیکاٹ کی حامی تھیں۔ آج ان کے متحد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تمام جماعتیں انتخابات کا انعقاد اور اس میں حصہ میں چاہتی ہیں"

عبادالحق، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا اور یہ توقع کی گئی کہ کمیشن اپنے اوپر کیے جانے والے اعتماد پر پورا اترے گا۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے کہا کہ تمام قومی معاملات آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے طے کیے جائیں اور ایسے مطالبات سے اجتناب کیا جائے جن کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور جو کسی نہ کسی طرح انتخابات کے شیڈول پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

بختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایک بار ملک میں غیر آئینی اور جمہوری اقدام کرنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں مجبور کیا گیا تو تمام ملک التحریر سکوائر بنا دیاجائے گا۔

نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو نے کہا کہ حکومت کے ہاتھ وقت نکل رہا ہے اس لیے حکومت دو ٹوک انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔ انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا گیا تو آئین مشکل میں آ جائے گا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات ماورائے آئین

پاکستان کی حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ زمانہ گیا جب آمروں کو عدالتیں آئین میں ترمیم کا اختیار دیا کرتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت سولہ مارچ کو پوری ہوگی اور اس روز اسمبلی خود بخود ٹوٹ جائے گی اور نئے انتخابات پانچ سے پندرہ مئی کے درمیاں منعقد ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت آئین کے تحت تشکیل دی جائے گی۔اور یہ سب کچھ کسی کے مرضی سے نہیں ہو گا۔

وفاقی وزیر کے مطابق طاہر القادری نے نگران حکومت میں تشکیل کے لیے فوج اور عدلیہ سے مشاورت کا مطالبہ تو کیا ہے لیکن اس کے طریقۂ کار کی وضاحت نہیں کی کہ یہ کیسے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نہ فوج بنائے گی اور نہ عدلیہ اور نہ صدر بلکہ نگران حکومت آئین کے تحت ایوان کی کمیٹی بنائے گی کیونکہ اس کا طریقۂ کار موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ زمانہ گیا کہ آمر حکومتیں بنایا کرتے تھے اب سب کچھ آئین کے تحت ہوگا۔

قمر زمان قائرہ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری الیکشن کمیشن کو توڑنے کا مطالبے کرتے ہیں لیکن اس کی دوبارہ تشکیل کے لیے طریقہ کار نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ذہن سے کام کرنا ہوتا اور اس کے لیے جسمانی طور پر طاقتور شخص کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیش کی آئین کے تحت اتفاق رائے سے تشکیل ہوئی اور ان کے عہدے آئینی ہیں جنہیں ایسے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آرٹیکل 62 ، 63 پر پورا اترنے والے امیدواروں کو انتخابات لڑنے کا جو مطالبہ کیا ہے اس کا بھی طریقۂ کار آئین میں موجود ہے۔

اس کے لیے الیکشن کمیشن کا ادارہ ہے اور عدالتیں ہیں جس امیدوار کی اہلیت چیلنج کرنی ہوتی ہے تو اس کے لیے الیکشن کمیشن اور عدالتیں ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اس آئینی طریقۂ کار کو نہیں مانتے تو کیا لوگوں کو الیکشن میں حصہ لینے کے لیے ڈاکٹر طاہرالقادری سے سرٹیفیکٹ لینے ہونگے۔

وفاقی وزیر نے ڈاکٹر طاہر القادری کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے آپ کے مطالبات کیسے پورے ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات آئین کے مطابق ہوئے تو ہم اس پر غور کریں گے لیکن اگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت، پارلیمان اور الیکشن کمیشن توڑ کر ان کے مطالبات پورے ہوں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ کہ اگر ادارے نہ ہوں تو نئے قوانین کون بنائیں گے۔



اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔