طاہر القادری، حکومت میں معاہدہ، دھرنا ختم

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 11:04 GMT 16:04 PST

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور حکومت کے درمیان طے پانے والے ’اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن‘ پر طاہر القادری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے دستخط کردیے۔

دھرنا اور مذاکرات

ڈیکلریشن پر دستخط ہونے کے بعد طاہر القادری نے اعلان کیا کہ چار روز سے جاری اسلام آباد میں دھرنا ختم ہو گیا ہے اور جن لوگوں کی بسیں چھین لی گئی تھیں ان کو بسیں مہیا کی جائیں گی۔

اس ڈیکلریشن پر طاہر القادری اور وزیر اعظم کے علاوہ اس دس رکنی ٹیم کے ارکان کے بھی دستخط ہیں جنہوں نے یہ مذاکرات کیے۔

دستخط ہونے کے بعد طاہر القادری نے اعلان کیا کہ چار مطالبات میں سے تین پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ انتخابی اصلاحات پر میٹنگ ہو گی۔

حکومت کی دس رکنی ٹیم کے ساتھ چار گھنٹوں سے زیادہ مذاکرات جاری رہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے اس اعلان کے بعد تمام رہنماؤں کا تعارف کروایا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ اس کے بعد انہوں نے چوہدری شجاعت حسین سے گفتگو کرنے کا کہا جنہوں نے مجمعے سے خطاب کیا۔

مذاکرات کے آغاز کے بعد طاہر القادری نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں اور مجمعے سے کہا کہ وہ ابھی نہیں جائیں۔

طاہر القادری نے جمعرات کی دوپہر اسلام آباد کے ڈی چوک میں تیز بارش میں بھیگتے ہوئے دھرنے پر بیٹھے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کو اصلاحات کے لیے جمعرات شام تین بجے تک کی مہلت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام سے قبل اس معرکے کو ختم کرنا ہے اور اگر صدرِ پاکستان ان سے مذاکرات کے لیے نہ آئے تو وہ امن کا آخری موقع بھی گنوا دیں گے۔

ان کے اس اعلان پر حکومت نے دس رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جس نے دھرنے کے مقام پر طاہر القادری کے کنٹینر میں ان سے بات چیت کی۔ اس کمیٹی میں پیپلز پارٹی اور حکومت میں اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔

مذاکراتی کمیٹی پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم، سید خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، فاروق نائیک، مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین، ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار اور رکن اسمبلی بابر غوری، اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک اور فاٹا سے سینیٹر عباس آفریدی پر مشتمل تھے۔

معاہدہ

1: قومی اسمبلی کو سولہ مارچ سے پہلے تحلیل کیا جائے گا، جو کہ پہلے سے ہی اس ایوان کی معینہ مدت ہے، تاکہ اس کے بعد نوے دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد کروایا جا سکے۔

اس سے قبل ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا تاکہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نامزد ہونے والے نمائندگان کی نامزدگی سے پہلے چھانٹی کی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن ان افراد کی اہلیت کا جائزہ لے سکے۔ کسی بھی امیدوار کو اپنی انتخابی مہم کے آغاز کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان کی یہ چھانٹی نہیں ہو جاتی اور الیکشن کمیشن ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔

2: حکومت اور پاکستان عوامی تحریک دونوں مکمل اتفاق رائے سے دو دیانت دار اور غیر جانبدار امیدواروں کے نام نگران وزیر اعظم کے طور پر پیش کریں گے۔

3: الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بارے میں ایک اجلاس اگلے ہفتے اتوار ستائیس جنوری 2013 کو بارہ بجے منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹیریٹ لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ہونے والے تمام اجلاس بھی منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ میں ہی ہوں گے۔

آج کے فیصلے کی پیروی میں وزیر قانون ایک اجلاس مندرجہ ذیل وکلاء ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعتزاز احسن، فروغ نسیم، لطیف آفریدی، ڈاکٹر خالد رانجھا اور ہمایوں احسن کو ایک اجلاس میں ان معاملات پر غور کے لیے بلائیں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ستائیس جنوری کے اجلاس سے پہلے قانونی صالاح و مشورے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔

4: انتخابی اصلاحات کے بارے میں اتفاق کیا گیا کہ انتخابات سے پہلےآئین کے مندرجہ ذیل شقوں پر عملدرآمد پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اے: آئین کی شق 62، 63 اور (3) 208

بی: آئین کے سیکشن 77 اور 82 جو کہ عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے سیکشن ہیں اور دوسری سیکشنز جو انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور ایماندارنہ بنیادوں پر انعقاد کو کسی قسم کی بدعنوانی سے بچاتے ہیں۔

سی: سپریم کورٹ کے 2011 کی قانونی درخواستوں پر 8 جون 2012 کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کروایا جائے گا۔

5: لانگ مارچ کے اختتام کے بعد دونوں جانب ایک دوسرے کے خلاف تمام قسم کے مقدمات ختم کر دیں گے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے اور مارچ میں شریک کسی کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔

اس اعلامیے پر بہت خوش اسلوبی اور مفاہمت کی روح سے طے کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔