کراچی:ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سمیت چار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 11:12 GMT 16:12 PST

منظر امام پی ایس پچانوے پر ہونے والے انتخاب میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے

کراچی میں فائرنگ کے واقعے میں ایم کیو ایم کے رکنِ صوبائی اسمبلی منظر امام سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں احتجاج اور سوگ کے حوالے سے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پولیس کے ترجمان عمران شوکت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان چوک بازار کے علاقے میں موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے سندھ اسمبلی کے رکن منظر امام کی گاڑی پر انددھند فائرنگ کی۔

ان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں منظر امام اور ان کے تین محافظ ہلاک ہوگئے۔ محافظین میں سے سجاد اور عمران پولیس اہلکار جبکہ مراد نجی محافظ تھے۔

حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ہلاک شدگان کی لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہلاکتوں کے بعد کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ اورنگی ٹاؤن میں کاروبار بند ہو رہا ہے جبکہ ٹائر جلا کر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ حیدرآباد کے حیدر چوک میں فائرنگ سے ایک خاتون بھی ہلاک ہوئی ہے۔

کراچی یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تینتالیس سالہ منظر امام کاروباری شخصیت تھے۔ وہ پی ایس پچانوے پر ہونے والے انتخاب میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ان کی مستقل رہائش اورنگی ٹاؤن میں ہی تھی اور انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔

وہ رواں حکومت میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے ایم کیو ایم کے دوسرے رکنِ اسمبلی ہیں۔اس سے قبل اگست سنہ دو ہزار دس میں پی ایس چورانوے سے منتخب ہونے والے رضا حیدر محافظ سمیت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’جو اعلان انہوں نے پہلے کیا تھا کہ وہ عوام کو ایم کیو ایم کی شر پسندی سے بچائیں گے اس کی ایک مثال آج کی کارروائی ہے‘۔

متحدہ قومی موومنٹ نے رکن اسمبلی کے قتل پر تین روز سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اتحاد نے کل ٹرانسپورٹ اور نجی سکولوں کی تنظیم نے سکول بند رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔

تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے امید ظاہر کی کہ انہیں کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔ ’آج پانچواں روز تھا کہ تمام مراکز مکمل طور پر کھل نہیں پائے تھے۔ ہم کل نمازے جنازہ تک کاروبار بند رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ ہمیں باقی وقت کاروبار کھولنے دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے کہ جب تک تفتیشی ادارے کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے وہ قتل کی وجوہات پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

پچھلے چند سالوں سے جس صورتحال کا سامنا ہے، اس سے پہلے رکن اسمبلی رضا حیدر کو بھی فرقیواریت کی بنیاد پر قتل کیا گیا، اس لیے یہ تاثر بھی موجود ہے کہ منظر امام کا تعلق بھی اہل تشیع تھا مگر ایسا ہے نہیں وہ اہلسنت مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ منظر امام کی کسی سے کوئی ذاتی رنجش ہرگز نہ تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دنوں متحدہ کے جلسے کے موقعے پر بھی ایک بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں پانچ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان نے بھی ایک بیان جاری کرچکی ہے۔

واسع جلیل نے بتایا کہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، جس میں احتجاج اور سوگ کے حوالے سے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ جمعرات کو ہی گلشن اقبال موچی موڑ پر فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک اور شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں مدرسے احسان العلوم کے طالب علم تھے۔ مدرسے کے طالب علم کی ہلاکت کے بعدگلشن اقبال میں ہنگامہ آرائی کی گئی اورگاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔

اہل سنت و الجماعت کراچی کے ترجمان مولانا اکبر سعید فاروقی کا کہنا ہے کہ مقتول عارف اور زخمی اختر زماں ان کے ہمدرد تھے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے پہلے مہینے میں اپنی نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے، اس سے پہلے ان کے ہمدرد اصغر الیاس ایک بچی سمیت ہلاک ہوئے جبکہ گلبہار میں ایک حملے میں تین کارکن زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔