کیا باجوڑ امن کا جزیرہ ثابت ہوسکتا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST

باجوڑ میں حکام کے مطابق قبائل کی مدد سے قیام امن حاصل کر لیا گیا ہے

فاٹا حکام کی دعوت پر باجوڑ ایجنسی کی ماموند تحصیل میں قائم قبائلی لشکر سے یا جسے مقامی سطح پر ویلج ڈیفنس کمیٹی بھی کہا جاتا ہے ملنے خار سے نکلے تو میلوں تک سڑک کی دونوں جانب مسلح افراد کو نگرانی کرتے دیکھا۔ ان میں سے کئی کم عمر بھی نظر آئے تو بات کرنے کا تجسس ہوا۔ ان میں سے ایک سولہ سالہ محمد زبیر تھے۔

’ہم گاؤں والے ہیں اور بریگیڈیئر صاحب کی حفاظت کے لیے یہاں کھڑے ہیں۔ صبح نو بجے نکلے تھے اب دو بج رہے ہیں، دوپہر کے یہاں کھڑے ہیں۔‘

جب پوچھا کیا بندوق چلانی آتی ہے تو جواب ملا ’بندوق چلانے کی تربیت کبھی نہیں لی اور نہ اب تک چلائی ہے۔ ہاں ایک مرتبہ اس ڈیوٹی پر نیند آ رہی تھی تو نیند بھگانے کے لیے دو فائر کیے تھے۔‘

معلوم نہیں ان لڑکوں کو معلوم تھا یا نہیں کہ اس مرتبہ بریگیڈیئر صاحب نہیں بلکہ میڈیا کی حفاظت کے لیے انہیں طلب کیا گیا تھا۔ جب ہم آگے بڑھے تو ملک تاج محمد خان چوک میں ایک ہجرے میں لشکر کے سربراہ اور ماموند قبیلے کے عمائدین سے ملاقات ہوئی۔ تقریباً تین ہزار مسلح جنگجوؤں پر مشتمل یہ لشکر اس علاقے میں قیام امن میں حکومت کی مدد کرتا ہے۔ اس لشکر کے سربراہ ملک شاطر خان ہیں۔

’اللہ کے فضل سے ہمارے علاقے میں اب سو فیصد امن ہے۔ اس کی وجہ یہاں سکیورٹی فورسز اور قبائلی مشران (عمائدین) کی مشترکہ کوششیں ہیں۔‘

"ہم گاؤں والے ہیں اور بریگیڈیئر صاحب کی حفاظت کے لیے یہاں کھڑے ہیں۔ صبح نو بجے نکلے تھے اب دو بج رہے ہیں، دوپہر کے یہاں کھڑے ہیں۔ بندوق چلانے کی تربیت کبھی نہیں لی اور نہ اب تک چلائی ہے۔ ہاں ایک مرتبہ اس ڈیوٹی پر نیند آ رہی تھی تو نیند بھگانے کے لیے دو فائر کیے تھے۔"

محمد زبیر

ماموند کا یہ لشکر دن رات علاقے کی نگرانی کرتا ہے۔ حکومت اسے اعزازیے کے ساتھ گولی اور بارود بھی دیتی ہے۔ ’حکومت مدد نہ کرے تو ہم یہاں کیسے ٹھہر سکتے ہیں۔ ان کے (طالبان) کے پیچھے تو اور لوگ ہیں ہمارے پیچھے تو کوئی نہیں ہے۔ ہم ان کی امداد سے مطمئن ہیں۔‘

اس مشران کے اجتماع میں جتنے لوگ تھے سب نے علاقے میں قیام امن کے لیے بھاری قیمتیں ادا کی ہیں۔ کسی کا باپ تو کسی کا بھائی اور کوئی خود بم دھماکوں میں زخمی یا بال بال بچے ہیں۔

ملک شاطر کے بھائی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف نہیں وہ صرف پاکستان کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ ’قائد اعظم نے کہا تھا کہ قبائل شمشیر ہیں ہم تو یہی کر رہے ہیں۔‘

باجوڑ میں حکام کے مطابق قبائل کی مدد سے قیام امن حاصل کر لیا گیا ہے۔ صدر مقام خار میں بظاہر گہما گہمی ہے۔ دکانیں کھلی ہیں اور کاروبار جاری ہے۔ پورے ملک کے طرح یہاں بھی بجلی نہ ہونے کی شکایت سننے کو ملی۔ ایک شخص نے بتایا کہ چوبیس گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے بجلی ملتی ہے۔ اس بات کا اندازہ مجھے بھی وہاں دو روز کے قیام کے دوران اچھی طرح ہوا۔

لیکن سکیورٹی اہلکاروں کی ہمارے ساتھ موجودگی کی وجہ سے ہر کوئی عوامی مقامات پر کھل کر بات کرنے سے کترا رہا تھا۔ ایک نے کہا کہ وہ فوج سے بہت خوش ہیں اور طالبان، طالبان کا ذاتی مسئلہ ہے ان کا نہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں سول و فوجی حکام پراعتماد ہیں کہ شدت پسندوں کو دو ہزار آٹھ کی فوجی کارروائی میں نکالنے کے بعد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے۔اس لڑائی میں سو سکول تباہ ہوئے، پچاس کے قریب لیویز چوکیاں اڑائی گئیں اور دیگر انفرسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

"تعمیر نو کا یہی وقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس مسئلے کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔ یہ تو چلے گا لیکن ہم نے لوگوں کو ترقی بھی دینی ہے تاکہ انہیں احساس ہو کہ حکومت ان کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ اگر ہم نے شدت پسندی کا مقابلہ کرنا ہے تو میرے خیال میں وہ ترقی کے زریعے ہی ہوسکتا ہے۔"

ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ باجوڑ عمران حامد شیخ

پولیٹکل انتظامیہ نے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا ہے۔ سکول اور کھیلوں کے لیے سٹیڈیم، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل چل پڑے ہیں۔ لیکن چاروں اطراف میں خراب حالات کے درمیان کیا باجوڑ امن کا جزیرہ ثابت ہوسکتا ہے؟

کیا یہ تعمیر نو کے لیے مناسب وقت ہے؟ یہ سوال میں نے ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ باجوڑ عمران حامد شیخ کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا ’جی بالکل تعمیر نو کا یہی وقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس مسئلے کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔ یہ تو چلے گا لیکن ہم نے لوگوں کو ترقی بھی دینی ہے تاکہ انہیں احساس ہو کہ حکومت ان کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ اگر ہم نے شدت پسندی کا مقابلہ کرنا ہے تو میرے خیال میں وہ ترقی کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔‘

بازار میں گھومنے پھرنے کے دوران ایک غیرمعمولی بات یہ دیکھنے کو ملی کہ لوگ فوج اور طالبان سے متعلق بات کرنے سے کتراتے ہیں لیکن فلمی اداکاروں کے بارے میں نہیں۔

پشتو فلموں کے ہیرو بدر منیر اور بھارتی اداکار دلیپ کمار اس علاقے کے نوجوانوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ خار بازار میں ایک ایسے ہی نوجوان احسان سے ملاقات ہوئی جو فلموں میں کام کا متمنی ہے اور وہ ہمیں پشتو ڈائیلاگ سنائے بغیر نہ رہ سکا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔