اسلام آباد: باڑہ میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 18:51 GMT 23:51 PST
اسلام آباد میں مظاہرہ

باڑہ میں اٹھارہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے خلاف احتجاج کے طور پر شمعیں روشن کی گئيں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے کارکنوں اور طلبہ نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا۔

ان اٹھارہ افراد کو منگل کے روز قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے افراد عام شہری تھے اور الزام عائد کیا ہے کہ وردی میں ملبوس افراد نے ان کو ہلاک کیا تھا۔

سنیچر کو یہ اجتماع اسلام آباد میں قومی ایوان صحافت کے باہر ہوا جس میں سول سوسائٹی کے اراکین اور خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے طلبہ نے شرکت کی۔

شرکاء نے ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔

ایک پلے کارڈ پر یہ تحریر تھی ’اب پختونوں کی نسل کشی بند کرو‘ جبکہ دوسرے پر یہ درج تھا’ کیا پختون انسان نہیں‘۔

شرکاء میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹریٹ کے طالب علم رومان خان نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا’لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے مارا جا رہا ہے، کوئی سکیورٹی نہیں ہے، لوگ غیر یقینی صورت حال میں رہتے ہیں کہ کسی بھی طرف سے کچھ بھی ہو سکتا ہے، بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہتھیار پٹھانوں کا زیور ہے اور ہمیں اس سے آراستہ کیا جا رہا ہے لیکن ہم ہتھیار نہیں چاہتے، اب حالات یہ ہیں کہ ہم دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، ہمیں دو وقت کی روٹی، قلم اور کتاب چاہیے، ہمیں بچوں کے لیے سکول چاہیے، بچوں کے لیے تعلیم اور سکیورٹی چاہیے، ہمیں امن چاہیے‘۔

"ابھی تو حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات ہوگی۔ وہ (لواحقین) کہہ رہے ہیں وردی پہنے ہوئے لوگوں نے یہ کیا ہے، اب اس کی تحقیقات ہوگی تو پتہ چلے گا، یہ بہت تشویشناک بات یہ ہے کہ آپ کی عوام کو اپنی سکیورٹی فورسز سے ڈر لگنے لگے، اس قسم کا تاثر پیدا ہونا اچھی بات نہیں ہے، اس لیے ان کا احتساب بہت ضروری ہے۔وہ (سکیورٹی فورسز) بہت کام بھی کر رہے ہیں اور ہم توقع بھی رکھتے ہیں کہ فوج ہمارا تحفظ کرے گی"

بشریٰ گوہر

اس مظاہرے میں شریک خیبر پختونخواہ کے صحافی زلمے کہار نے ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کی ہلاکت کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا ‘یہ غیر مسلح عام شہری تھے، یہ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے، ان لوگوں کو دن دہاڑے اپنے گھروں سے نکالا گیا، ان میں ایک بارہ سال کا بچہ بھی تھا اور ایک ستّر سال کا بوڑھا بھی تھا، ان کو ایک کھلے میدان میں کھڑا کر دیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ منہ دوسری طرف کریں اور پھر قریب سے گولیاں ماری گئیں‘۔

اس احتجاج میں شریک حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی یعنی اے این پی کی رکن قومی اسمبلی بشر یٰ گوہر نے ان اٹھارہ افراد کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا’ابھی تو حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات ہوگی۔وہ (لواحقین ) کہہ رہے ہیں وردی پہنے ہوئے لوگوں نے یہ کیا ہے، اب اس کی تحقیقات ہوگی تو پتہ چلے گا، بہت تشویشناک بات یہ ہے کہ آپ کی عوام کو اپنی سکیورٹی فورسز سے ڈر لگنے لگے، اس قسم کا تاثر پیدا ہونا اچھی بات نہیں ہے، اس لیے ان کا احتساب بہت ضروری ہے۔وہ (سکیورٹی فورسز) بہت کام بھی کر رہے ہیں اور ہم توقع بھی رکھتے ہیں کہ فوج ہمارا تحفظ کرے گی‘۔

بشریٰ گوہر نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے، وہاں خصوصی قوانین ختم کیے جائیں، پاکستان کے عدالتی اور قانونی ڈھانچے کا دائر کار وہاں تک بڑھا جائے۔

 باڑہ ہلاک شدگان کے لیے احتجاج

پیشاور میں باڑہ ہلاک شدگان کے لیے احتجاج

ان کا کہنا تھا کہ صدر بھی اپنے اختیارات اسمبلیوں کو منتقل کریں تا کہ وہ قبائلی علاقوں کی صورت حال کے بارے میں اسمبلیوں میں بحث کر سکیں۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں اور ان علاقوں کو غیر ملکی شدت پسندوں سے پاک کیا جائے کیونکہ ان کے بقول وہ ہماری خود مختاری اور سالمیت کو چیلنج کر رہے ہیں۔

باڑہ میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ جمعرات کو پشاور میں گورنر ہاوس اور ایوان صحافت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

احتجاج کے موقع پر خیبر پختونخوا کے گورنر بیرسٹر کوثر معسود نے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک خودمختار تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی ان ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔