یہ دس دن

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 11:14 GMT 16:14 PST
ایل او سی

ایل او سی پر کشیدگی کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف کڑا رخ اختیار کیا تھا لیکن نے اس سے سخت رویہ بھارتی میڈيا نے اپنایا تھا

چھ تا سولہ جنوری کے دس روز میں کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر بھارت کے لانس نائک ہیمراج اور لانس نائیک سدھاکر سنگھ اور پاکستان کے لانس نائیک اسلم، حوالدار محی الدین اور لانس نائیک اشرف ہلاک ہوگئے۔ یہ پانچوں تو اپنے اپنے وطن کے کام آگئے مگر ان کی قربانی چالاک کارپوریٹ پولٹیکل سیکٹر کے کام آئی۔

دہلی اجتماعی ریپ کیس کے بعد فارغ بیٹھے بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ریٹنگ کا ایک نیا پہاڑ میسر آگیا۔ ٹی وی سکرین اور اخباری صفحے سے نکلنے والی تپش کی گرماہٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہمنوا ذیلی تنظیموں کے لیے ایک اور نیا کام پیدا کردیا اور اس کے توڑ کے لئے منموہن حکومت نے بھی ’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی‘ کا فلسفہ اپنا لیا ۔

اس دوران پاکستانی میڈیا کی پلیٹ پہلے ہی سے کوئٹہ کے ہزارہ قتلِ عام اور اسلام آباد کے قادری انقلاب کی مرغن نشریاتی غذا سے بھری پڑی تھی لہٰذا اس نے لائن آف کنٹرول کی جھڑپوں کو سائڈ ڈش کے طور پر برتا۔ حتیٰ کہ حافظ محمد سعید سے منسوب اس بیان کو بھی بھارتی میڈیا میں ہی جگہ مل سکی کہ جو بھی کسی بھارتی فوجی کا سر کاٹ کر سرحد پار لائے گا پانچ لاکھ روپے انعام پائےگا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما سشما سوراج کی یہ جوابی غزل بھی پاکستانی میڈیا کے لیے چٹخارہ نہ پیدا کرسکی کہ اگر لانس نائیک ہمراج کا سر سرحد پار سے واپس نہیں آتا تو حکومت کو چاہیے کہ وہ دس پاکستانیوں کے سر کاٹ کر لائے۔

صرف اخبار ’ہندو‘ اور ڈیلی ’نیوز اینالسز‘ نے یہ سوال اٹھایا کہ ہوسکتا ہے لائن آف کنٹرول پر بظاہر اچانک کشیدگی بھڑکنے کے پیچھے وہ ستّر سالہ خاتون ہو جو ستمبر میں لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چلی گئی اور پھر ایسے واقعات کے تدارک کے لیے بھارتی فوج نے اس علاقے میں احتیاطاً کچھ پکی چوکیاں بنا لی ہوں جہاں دو ہزار پانچ کے ایک دوطرفہ سمجھوتے کے تحت نئی چوکیاں یا تعمیر نہیں اٹھائی جاسکتی۔

ہوسکتا ہے پاکستان کے مقامی کمانڈر نے ان تعمیرات کا نوٹس لیا ہو اور ہوسکتا ہے کہ اس نوٹس کے جواب میں چھ جنوری کو کسی بھارتی فوجی دستے نے فائرنگ کرکے ایک پاکستانی فوجی ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کردیا ہو اور دو دن بعد پاکستانیوں نے جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرکے ان میں سے ایک کا سرقلم کردیا ہو؟

بہرحال جو کچھ بھی ہوا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کی مقامی فوجی قیادت سے زیادہ طیش میں میڈیا اور سیاستدان آگئے اور یوں طویلے کی بلا بندر کے سر بندھتی چلی گئی۔

مثلاً واہگہ اٹاری سرحد پر معمر شہریوں کو ویزا دینے کا نیا سلسلہ پہلے دن ہی معطل ہوگیا۔

ایک بائیس رکنی خیرسگالی پاکستانی تجارتی وفد نریندرا مودی حکومت نے احمد آباد سے کراچی روانہ کردیا گیا۔

جے پور میں پاکستانی ڈرامہ گروپ اجوکا اور دلی میں نیشنل سکول آف ڈرامہ کے میلے میں شامل کراچی کے ادارے ناپا کی تھیٹر منڈلی کی پرفارمنس عین وقت پر رکوا دی گئی۔ حالانکہ دونوں گروپ سعادت حسن منٹو آف ٹوبہ ٹیک سنگھ کے فلسفے کو لے کر بھارت گئے تھے۔

یہی نہیں بلکہ انڈین ہاکی لیگ میں شرکت کے متمنی نو پاکستانی کھلاڑیوں سے منتظمین نے معذرت کرکے ان کی واپسی کی سیٹیں کروادیں کیونکہ شیو سینا سمیت کئی تنظیموں نے ان کے خلاف مظاہرے شروع کردئیے تھے۔

اگر ان دس دنوں کا کوئی مثبت تجربہ سامنے آیا تو یہ کہ دونوں حکومتیں ابتدائی شعلہ بیانی اور بھڑاس نکالنے کے ضروری مرحلے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ اب اس بخار کو بتدریج سفارتی و عسکری چینلز کے ذریعے نیچے لایا جائے ۔

پندرہ برس پہلے یہ ممکن نہیں تھا۔ لائن آف کنٹرول میں کسی سیکٹر میں چلنے والی ایک گولی کی گونج ہر سیکٹر میں سنائی دیتی تھی۔ بیسیوں فوجی مرتے تھے۔ ڈھائی تین مہینے مسلسل جاری آتش بازی میں کروڑوں روپے کا ایمونیشن پھونک دیا جاتا تھا اور لاکھوں لوگ نقلِ مکانی پر مجبور ہوجاتے تھے۔اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ذہن کچھوے کی رفتار سے سہی بدل ضرور رہا ہے۔ کچھ بچے تیزی سے سیکھتے ہیں اور کچھ سلو لرنر ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔