پشاور: سکیورٹی پر دو ہزار مزید اہلکار تعینات

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 12:45 GMT 17:45 PST

یہ اقدامات خیبر ایجنسی میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے بعد اٹھائے گئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے پشاور کی جانب آنے والے راستوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ سرحد کے مختلف راستوں پر دہشت گردوں کے شہری علاقوں میں داخلے کو روکنے کے لیے دو ہزار پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

تحصیل باڑہ اور جمرود سے آنے والے راستوں سربند چیک پوسٹ، شیخان چوکی، مترہ میں سخی پل چوکی اور حیات آباد کی جانب آنے والے راستے پر قائم پولیس چوکی پر نفری بڑھا دی گئی ہے۔

خیبر ایجنسی سے پشاور اور اس کے مضافات میں آنے والے افراد کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ ان داخلی راستوں پر کنٹینرز رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔

عام تاثر یہ ہے کہ یہ اقدامات خیبر ایجنسی میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے بعد میتوں کو پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے لا کر دھرنا دینے کے واقعے کے بعد اٹھائے گئے ہیں۔

"سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران شاہد کے مطابق نگرانی کے اس عمل کے لیے کوئی باقاعدہ یا اضافی فورس تعینات نہیں کی گئی ہے تاہم یہاں قائم چوکیوں پر نگرانی کا عمل بڑھا دیا گیا ہے ۔ پشاور کے مضافاتی علاقوں کی جانب خیبر ایجنسی سے ملنے والی سرحد جیسے متنی اور بڈھ بیر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس کے علاوہ ان سرحدی علاقوں میں بارہ نئی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔"

عزیزاللہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

حکام کے مطابق خیبر ایجنسی میں آپریشن سے متاثرہ افراد بھی پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں کی جانب آ رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ان افراد کے بھیس میں شدت پشند یا دہشت گرد پشاور میں داخل نہ ہو جائیں۔

خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں ان دنوں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ گزشتہ رات نامعلوم افراد نے تحصیل باڑہ میں اکا خیل کے مقام پر ایک سرکاری ہائی سکول کو دھماکے سے اڑا دیا۔ خیبر ایجنسی میں کچھ عرصے کے دوران تباہ کیے گئے تعلیمی اداروں کی تعداد اسی تک پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ روز شلوبر کے علاقے میں امن کمیٹی کے رضاکاروں کے قریب ایک دھماکے میں پانچ رضا کار زخمی ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے خیبر ایجنسی میں عالم گودر کے مقام پر اٹھارہ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور مقامی افراد نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار ملوث تھے۔

مقامی افراد نے ان ہلاکتوں کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا جسے پولیس نے رات کو منتشر کردیا تھا۔

خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاع بھی تھی اور اس واقعہ سے پہلے فورسز کی چوکیوں اور قافلوں پر حملوں میں سات اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔