وزیر اعظم نے نظرثانی اپیل واپس لے لی

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 14:23 GMT 19:23 PST

پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست واپس لے لی ہے۔

وزیراعظم کے وکیل وسیم سجاد نے پیر کو چیف جسٹس افتِخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے ہدایت کی ہے کہ نظرثانی کی درخواست واپس لی جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے مارچ سنہ دو ہزار بارہ میں آنے والے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بحثیت رکن قومی اسمبلی دی تھی۔

اس سے پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ نے سترہ جنوری کو کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق قومی احتساب بیورو کی جانب سے پیش کی جانے والی تفتیشی رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے نیب کے چیئرمین سے کہا تھا کہ وہ تئیس جنوری تک اس مقدمے میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ چیئرمین نیب سنہ دو ہزار چھ سے لے کر اب تک کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق جتنے بھی معاہدے ہوئے ہیں اُن میں سے کتنے معاہدے قانونی تقاضوں کے مطابق اور کتنے غیر قانونی ہیں، وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔

نیب کے سربراہ ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنے ادارے کی ہی تفتیشی رپورٹ کو ناقص قرار دیا۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پندرہ جنوری کو اسی رپورٹ کی بنیاد پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے جن پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا۔

سترہ جنوری کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف کرائے کی بجلی گھروں کے مالکان کو سات فیصد سے لے کر چودہ فیصد ایڈوانس رقم کی ادائیگی سے متلعق کوئی ثبوت نہیں ملے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تیس مارچ سنہ دو ہزار بارہ کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔