حلقہ بندیوں میں رد و بدل نہ کرنے پر احتجاج

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 14:29 GMT 19:29 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں حلقہ بندیوں میں رد و بدل نہ کرنے اور ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے دوران فوج کی عدم موجودگی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا ہے۔

جماعت اسلامی، مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام اور دیگر جماعتوں کی جانب سے یہ احتجاج کیا گیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ جب تک حلقہ بندیاں درست نہیں ہوتیں اور ووٹر لسٹوں سے جعلی ووٹوں کا اخراج نہیں ہوتا کراچی میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی حلقوں میں رد و بدل اور فوج کی نگرانی میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا حکم جاری کیا تھا۔

’ کراچی شہر پچیس سالوں سے ایم کی ایم کے مظالم کا شکار ہے، وہ فہرستوں سمیت پورے انتخابی عمل کو یرغمال بناتے ہیں۔ اس لیے ہماری جدوجہد یہ ہے کہ ووٹر لسٹیں صحیح تیار ہوں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ فوج کو ایک بار پھر انہوں نے باہر کرکے ایم کیو ایم کو شامل کرلیا ہے۔‘

اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے عمل میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن شامل ہیں اور ووٹر لسٹیں ان کے ہاتھوں میں دیکھی گئی ہیں۔

گزشتہ حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ شریک صوبائی وزیر اور مسلم لیگ ن کے موجودہ رہنما عرفان اللہ مروت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں کھچڑی بنائی گئی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ایم کیو ایم کو ایک راہ ہموار کرکے دی جائے لیکن یہ سندھ اور پاکستان کے ساتھ بے ایمانی ہے۔

انہوں نے کراچی میں حالیہ ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس طرح جعلی مینڈیٹ دیے گئے تو کراچی کوئی بھی گلی محفوظ نہیں ہوگی۔

"میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس قسم کا الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، مگر آزاد میڈیا کے اس دور میں تمام چیزیں سب کے سامنے ہیں، میں تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے الیکشن کمیشن اپنا کام آزادانہ طور پر سر انجام دے رہا ہے۔"

واسع جلیل

متحدہ قومی ممومنٹ کے رہنما واسع جلیل نے اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کا کراچی میں کوئی سیاسی شیئر نہیں اور نہ ہی آواز ہے۔

’ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس قسم کا الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، مگر آزاد میڈیا کے اس دور میں تمام چیزیں سب کے سامنے ہیں، میں تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے الیکشن کمیشن اپنا کام آزادانہ طور پر سر انجام دے رہا ہے۔‘

واسع جلیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک اصولی موقف اختیار کیا تھا کہ ووٹر فہرستوں کی تصدیق صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں ہونی چاہیے مگر عدالت کا یہ حکم تھا اور انہوں نے اسے تسلیم کیا۔

یاد رہے کہ کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ نے کراچی کی حلقہ بندیوں میں رد بدل کی ہدایت کی تھی، جس کی پہلے الیکشن کمیشن نے مخالفت کی اور بعد میں اس پر رضامندی کا اظہار کردیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے نئی حلقہ بندیاں کو مشکل قرار دیا اور یہ بھی کہا تھا کہ ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے لیے فوج کی موجودگی کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔