قتل ہے یا خودکشی تعین ضروری ہے:سپریم کورٹ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 10:07 GMT 15:07 PST

کامران فیصل کی ہلاکت: رینٹل پاور مقدمے کا رخ بدل گیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے دو رکنی عدالتی بینچ قائم کردیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ چوبیس جنوری سے اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت کی تحقیقات تک کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات روکنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہلاکت کے معاملے کی سماعت کے لیے الگ بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

عدالت نے بدھ کو رینٹل پاور کیس کی سماعت کے دوران کامران فیصل کی ہلاکت کے بارے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے جمع کروائے گئے نوٹ کو پٹیشن میں تبدیل کرتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل الگ بینچ بنایا۔

یہ بینچ چوبیس جنوری سے اس معاملے کی سماعت کرے گا جبکہ عدالت نے نیب کی جانب سے کامران فیصل کی ہلاکت کی تحقیقات مکمل ہونے تک رینٹل پاور کیس کی تحقیقات روکنے کا فیصلہ بھی مسترد کر دیا ہے۔

کامران فیصل کے اہلخانہ نے بھی سپریم کورٹ سے ان کی ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جبکہ نیب میں ان کے ساتھی افسران نے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی حاضر سروس جج سے کروائی جائیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے کامران فیصل کی موت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے جو دو ہفتوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ حکومت کو دے گا۔

اس کمیشن نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا جبکہ مقامی پولیس نے کامران فیصل کی موت سے متعلق فیڈرل لاجز میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ بھی تیار کر رکھی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو سماعت کے دوران نیب کے حکام نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ تاحال کامران فیصل کی ہلاکت کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی ہے۔

کامران فیصل کی ہلاکت کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کامران فیصل کی ہلاکت پراسرار حالات میں ہوئی ہے اور ان کی موت ایک قتل تھا یا خودکشی اس کا تعین ہونا نہایت ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر ایک ایسے مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے جس میں ملک کی ’ایگزیکٹو اتھارٹی‘ ملوث ہے اور ایسے معاملات کی تحقیقات کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

اسی دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ جب تک کامران کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا تب تک رینٹل پاور کیس کی تحقیقات پر کام نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں اور اس کیس پر کام کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے نیب کو کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بنچ اس کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے تک ہی محدود رہے گا اور کامران فیصل کی ہلاکت متعلق کیس بنچ نمبر دو کے سپرد کیا جا رہا ہے۔

اس پر چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کی جانب سے پراسکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ احکامات کے مطابق نیب اس معاملے کی تفتیش جاری رکھے گا۔ عدالت نے رینٹل پاور عملدرآمد کیس کی سماعت انتیس جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے تفتیشی افسر کامران فیصل جمعہ کو اسلام آباد میں اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کامران فیصل نے خودکشی کی تھی تاہم ان کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ کامران کی لاش پر تشدد کے نشانات تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔