کراچی: ’قتل عمد کا فیصلہ عدالت کا صوابدید‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 12:32 GMT 17:32 PST

مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا پر قتل عمد کا الزام ثابت نہیں ہوتا ہے

کراچی کی بلدیہ فیکٹری کے مالکان کے خلاف قتل عمد کی دفعہ خارج ہونی چاہیے یا اسے خارج کیا جائے یہ فیصلہ مقامی عدالت نے کرنا ہے۔

گیارہ ستمبر 2012 کو پیش آنے والے اس واقعے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 259 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سترہ کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپیکٹر جہانزیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انہوں نے 26 دسمبر کو اپنی تفتیشی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا پر قتل عمد کا الزام ثابت نہیں ہوتا ہے‘۔

تاہم 322 پی پی سی (قتل بل سبب) 333 پی پی سی ( زخمی کرنا یا معذور کرنا) کے الزامات ثابت ہوتے ہیں اس لیے سپلیمینٹری چالان پیش کیا گیا جو سکروٹنی کے بعد 19 جنوری کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ویسٹ کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا۔

لیکن فیکٹری واقعے کی سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ( سرکاری وکیل) شازیہ ہنجراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ قتل عمد کی دفعہ خارج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ عدالت کا صوابدید ہے یہ فیصلہ تفتیشی افسر نہیں کرسکتا ہے۔

تاہم تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ پولیس کے پاس جو چشم دید گواہ تھے، انہوں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا نے منیجر منصور اور دیگر کو کہا تھا کہ آگ لگ گئی ہے تو فیکٹری کے تمام شعبوں کو تالے لگا دیں، جس کی وجہ سے جانی نقصان ہوا۔

سب انسپیکٹر جہانزیب کے مطابق چشم دید گواہوں نے جب عدالت میں بیان قلمبند کروایا تو انہوں نے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ فیکٹری کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔

فائر برگیڈ، واقعے کے تحقیقاتی ٹربیونل اور کیمیکل تجزیے میں بھی یہ ثابت ہوا کہ فیکٹری میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ مالکان کے خلاف قتل عمد کا الزام واپس لینے کی وجہ یہ رپورٹیں بھی بنیں۔

"انہوں نے 26 دسمبر کو اپنی تفتیشی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا پر قتل عمد کا الزام ثابت نہیں ہوتا ہے"

تفتیشی افسر سب انسپیکٹر جہانزیب خان

ماہرین کا کہنا ہے کہ قتل عمد کی سزا موت یا عمر قید ہے، تاہم قتل بل سبب کی سزا جرمانہ اور قید ہوسکتی ہے۔

فیکٹری واقعے کی سپیشل پبلک پراسیکیوٹر شازیہ ہنجراہ کے مطابق قتل عمد کی دفعہ خارج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ عدالت کا صوابدید ہے یہ فیصلہ تفتیشی افسر نہیں کرسکتا۔

سپیشل پبلک پراسیکیوٹر، شازیہ ہنجراہ کا کہنا تھا کہ 19 جنوری کو ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ عبداللہ چنا کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت تھی، جس میں ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کی گئیں جس پر ان کے وکیل نے اعتراض کیا کہ کہ اس کی انڈیکس نہیں ہے صفحے آگے پیچھے ہیں، جس پر عدالت نے مہلت دی اور سماعت دو فروری تک ملتوی کردی۔

سپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق مقدمے کی تفتیشی افسر نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں تیسرا سپلیمینٹری چالان جمع کرایا جس میں سے 302 پی پی سی کی دفعہ کو نکال دیا گیا تھا۔ اس سے چار روز پہلے انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج عبداللہ چنا کی عدالت میں سکروٹنی رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 302 کو خارج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تفتیشی افسر کو اپنے طور اسے خارج کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ارشد بھائیلا اور شاہد بھائیلا کی سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے، جہاں ملزمان کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں اب سپیشل پبلک پراسیکیوٹر اپنے دلائل دیں گی۔

کراچی میں چیمبر آف کامرس کی تقریب میں تاجروں نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ کیا تھا کہ فیکٹری کا واقعہ ایک حادثہ تھا اور اس کے مقدمے میں سے قتل کی دفعہ خارج کی جائے۔

تاہم تفتیشی افسر سب انسپیکٹر جہانزیب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ثبوتوں کی عدم دستیابی پر یہ الزام خارج کیا ہے اور اس حوالے سے ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔