’ہمارے علاقے میں آ کرگولیاں مت چلائیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 14:10 GMT 19:10 PST

پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کی سول سوسائٹی کے کارکنوں اور دانشوروں نے ہندوستان اور پاکستان کی قیادت کو ایک آن لائن پٹیشن بھیجی ہے جس میں یہ اپیل کی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو برقرار رکھا جائے۔

یہ اپیل ایک ایسے مرحلے پر کی گئی ہے جب لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے پانچ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس آن لائن پٹیشن کا بیڑہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے جموں کی خاتون صحافی اور امن کے لیے سرگرم کارکن انورادھا بھیسن نے اٹھایا۔

یہ پٹیشن بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو بھیجی گئی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کی پہلی آن لائن پٹیشن ہے جس پر ریاست جموں کشمیر کے دونوں حصوں اور ہندوستان اور پاکستان کے کوئی ڈھائی سو افراد نے دستخط کیے ہیں جن میں سول سو سائٹی کے کارکن، صحافی، دانشور اور طلبہ شامل ہیں۔

"دس سال فائر بندی رہی، کم سے کم لوگوں کو خاص طور پر سرحد پر رہنے والے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا، پہلی بار ساٹھ سالوں میں انھوں نے تھوڑی ترقی دیکھی، سڑکیں بنیں، اسپتال بنے، اسکول کھلے، یہ جو معمول کی زندگی کی علامات ہیں جن سے وہ محروم تھے۔ تو دیکھیں ان (سرحد پر رہنے والے لوگوں) کا زیادہ مفاد اسی میں ہے کہ فائر بندی برقرار رہے، ایک دم سے انھیں صدمہ پہنچا کہ یہ جو فائر بندی ہے کتنی کمزور ہے کہ ایک معمولی واقعے سے اس کو (نقصان پہنچ سکتا ہے)، کم سے کم یہ( بھارت اور پاکستان) فائر بندی کا احترام کریں کیونکہ ( لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سے) ایک تو (دونوں ممالک کے درمیان) قیامِ امن کا عمل رکتا ہے اور یہاں کے لوگوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔"

جموں کشمیر سے صحافی انورادھا بھسین

اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فوری طور پر مخالفانہ کارروائیوں کو ختم کیا جائے اور دونوں ملکوں کی قیادت پر زور دیا گیا ہے کہ کشیدگی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی خاطر وہ بات چیت کے لیے کوششوں کا آغاز کریں۔

اس پیٹیشن کی محرک انورادھا بھسین کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کا احترام کیا جائے۔

لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاسی تجزیہ نگار ارشاد محمود نے بھی اس پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔

ارشاد محمود نے کہا ’تاریخی طور پر جموں کشمیر پر کئی جنگیں ہوئی ہیں، ان ( بھارت اور پاکستان) کے مابین جو بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے وہ فوری طور پر کشمیر کو میدانِ جنگ یا محاذِ جنگ بنا دیتے ہیں، اسی لیے سول سوسائٹی نے یہ کہا ہے کہ جو بھی تنازع ہے، جو بھی سیاسی اختلاف ہے اس کا حل پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، ہمارے علاقے میں آکر ایک دوسرے پر گولیاں مت چلائیں، بہت ہوگیا ہے۔‘

اس ماہ کے اوائل میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے پانچ فوجی ہلاک ہوگئے۔

اس پیٹیشن کی محرک انورادھا بھسین

گولہ باری کا یہ سلسلہ تو تھم چکا ہے لیکن اس کشیدگی کی وجہ سے کشمیریوں خاص طور پر لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والے لوگوں میں خوف و حراس پیدا ہوا ہے۔ پونچھ ، راولاکٹ بس سروس اور اسی راستے سے ہونے والی باہمی تجارت بھی معطل ہوگئی ہے۔

بس سروس کی معطلی کی وجہ سے دونوں جانب سے لگ بھگ دو سو مسافر لائن آف کنٹرول کے آر پار پھنس گئے ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے دانشور کہہ رہے ہیں کہ کشیدگی کی صورت میں بھارت اور پاکستان کی قیادت کو مداخلت کرنی چاہیے تاکہ صورت حال بگڑنے نہ پائے۔

انورادھا بھسین کہتی ہیں ’لائن آف کنٹرول پر ساٹھ سال سے مسائل رہے ہیں، دونوں ملکوں کی فوجوں کا یہ رویہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس دشمنی کو ہمیں کیسے باہمی اعتماد اور تعاون میں تبدیل کرنا ہے تو اس میں پہلی چیز یہ ہے کہ اگر کبھی بھی کوئی واقعہ ہو تو پہلے مقامی سطح پر فوجی کمانڈر اس کا حل نکالیں، اگر ایسا نہیں ہوتا اور (کشیدگی) بڑھتی رہتی ہے تو پھر اس میں ضرورت ہے کہ دلی اور اسلام آباد مداخلت کریں اور بات چیت اور سفارتی ذرائع سے اس کو حل کیا جائے تاکہ حالات بگڑیں نہیں بلکہ سدھریں اور لوگوں میں بھی یقین پیدا ہو کہ واقعی ہندوستان اور پاکستان قیام امن کے عمل میں سنجیدہ ہیں۔‘

حالیہ برسوں میں متنازع کشمیر کے دونوں حصوں سے غیر معمولی رد عمل سامنے آتا رہا ہے جو کہ امن کے حق میں تھا۔

کچھ عرصہ قبل جب نیلم وادی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا تو وہاں کی مقامی آبادی نے لائن آف کنٹرول پر امن برقرار رکھنے کے حق میں اور شدت پسندی کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

اب جبکہ لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تو کشمیر کے دونوں حصوں میں عوامی سطح پر امن کے حق میں کھل کر بات کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔