انقلاب آٹوز کے عظیم مستری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 04:31 GMT 09:31 PST

اگر آپ بضد ہیں کہ قالین پر برسوں سے جمع ہونے والی گرد کو دھلوا کر اسے پھر سے بچھانے، کلر زدہ دیواروں کے گرتے پلستر کو پورا کھرچنے کے بجائے جگہ جگہ سے جھانکنے والی اینٹوں پر سیمنٹ کا پھاہا رکھ دینے، گلابی دیواروں پر ہلکے سبز رنگ کا پینٹ کردینے، پرانے صوفے کا یہاں وہاں سے دبا فوم بدل کر نیا استر چڑھا دینے اور ڈائننگ ٹیبل کو جنوبی دیوار سے ہٹا کر شمالی کی جانب کھسکا دینے، گلدان کو ٹی وی سے اٹھا کر کارنس پر رکھ دینے اور کتابوں پر پڑی گرد پر کپڑا مار دینے سے ڈرائنگ روم میں انقلاب آجائے گا تو یہ بالکل ایسا ہے کہ میں دس لاکھ روپے کی برانڈڈ گھڑی خریدنے کی حسرت میں مرا جارہا ہوں لیکن اوقات نا ہونے کے سبب دو ہزار روپے والی ہو بہو نقل کلائی پر باندھ کر دیکھنے والوں کی تعریفی، حیرتی و حسرتی نگاہیں چار دن کے لئے خرید لوں۔

انقلاب کا تو مطلب ہے پرانا قالین اٹھا کر پھینک دیا جائے اور نیا قالین بچھ جائے اور پھر کمرے میں جو جو بھی اشیاء تازہ قالین کی کلر سکیم کے مطابق نہیں انہیں کباڑی کے حوالے کردیا جائے یا گھر کے تہہ خانے میں قفل بند کردیا جائے اور پھر نئی اشیاء سجائی جائیں۔سیکنڈ ہینڈ نہیں ۔۔۔نئی۔۔ بالکل نئی۔۔جدید۔۔۔۔

مگر یہ سب اسی گھر میں ممکن ہے جس کے مکینوں کی اکثریت قائل ہوجائے کہ اب لیپا پوتی سے کام نہیں چلے گا سب بدلنا ہوگا اور یہ سوچ بھی تب ہی انقلابی تبدیلی لاسکے گی جب اس بارے میں متفق ہونے والے افراد کی اکثریت ایک ہی ماضی ، حال ، زبان ، ثقافت ، عقیدے اور اپنے اور اردگرد کے روزمرہ کے بارے میں کم وبیش یکساں زاویہِ نظر رکھتی ہو اور کم ازکم اس یک نکاتی ایجنڈے پر اعلانیہ یا غیر اعلانیہ متفق ہو کہ اب زہنی و مادی ریڈیکل تبدیلی کے بغیر نا زندگی آگے بڑھ سکتی ہے نا بہتر ہوسکتی ہے۔ مگر جن گھروں کا ہاسٹلانہ ماحول ہو اور اس ہاسٹل کے کمروں میں بھانت بھانت کے مکین بستے ہیں وہاں انقلابی بک بک تو ممکن ہے انقلاب ممکن نہیں۔

فرانس کے آدھے شہریوں کا نسلی پس منظر مقامی اور باقی آدھوں کا جرمن ، ہسپانوی اور عرب ہوتا ، آدھوں کی مادری زبان فرانسیسی اور باقی کی غیر فرانسیسی ہوتی ۔ فرانسیسی بولنے والوں کی اکثریت رومن کیتھولک اور باقی پروٹسٹنٹ ، مسلمان ، بت پرست یا لادین ہوتے تو کیا اصلی نسلی صدیوں میں گڑی فرانسیسی بربن بادشاہت کے ملبے پر انقلاب کی عمارت کھڑی ہو سکتی تھی ؟

اگر روس ، چین ، کیوبا ، ویتنام ، ترکی اور ایران کی کثیر الجہتی لسانی ، مذہبی ، نسلی وثقافتی ساخت ہوتی تو کیا وہاں لینن ، ماؤ ، کاسترو ، ہوچی منہہ ، مصطفیٰ کمال اور خمینی نظامِ کہنہ کے پیروں تلے سے زمین سرکا سکتے؟

کثیرالنسلی افغانستان میں سوشلسٹ انقلابی تبدیلی کیوں بری طرح ناکام ہوگئی اور انقلاب پیدا ہوتے ہی انارکی میں کیسے بدل گیا؟

( ایک خیال ہے کہ افغان انقلابِ ثور بیرونی مداخلت کے سبب ناکام ہوا۔اگر ایسا ہے تو پھر روس ، چین ، کیوبا ، ویتنام ، ترکی اور ایران کے انقلابات کا بیرونی مداخلت کچھ کیوں نا بگاڑ سکی؟ )

تبدیلی پر سب متفق، مگر تبدیلی کیسے؟

پاکستان میں تبدیلی پر سب متفق ہیں ۔یہاں پرانے اور نئے انقلابی بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن کیسا انقلاب اور انقلاب کے بعد کیسا نظام؟ اس سوال پر یا تو خاموشی چھا جاتی ہے یا پھر یہ سب ’جو جہاں کھڑا ہے اور جیسا جس کو دکھائی دے رہا ہے‘ کی بنیاد پر صورتِ حالات کا سہہ سمتی ( تھری ڈی ) حقیقی تجزیہ کرنے کے بجائے یک سمتی ( ون ڈائمینشل ) فلسفیانہ و الزامیہ گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔جس استحصالی و ظالمانہ نظام کی یہ سب ناک کاٹنا چاہ رہے ہیں اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ان انقلابیوں کی لمبی لمبی ناکیں اور ہمالیائی انائیں ہیں۔

جن جن ممالک میں عرب سپرنگ آئی یا آنے کو ہے ان میں سے بھلا کون کون سے ممالک واضح کثیرالقومی و نسلی معاشرے ہیں؟؟؟؟

اس تناظر میں زرا سوچئے کہ ہندوستان اور پاکستان جیسے کثیرالقومی و کثیرالثقافت خطے میں فرانس ، روس ، چین ، کیوبا ، ویتنام ، ترکی اور ایران کی طرز کا انقلاب آنا یا لانا کتنا ممکن ہے۔ کیا پچھلے ڈھائی ہزار برس کے برصغیر میں شدید سماجی عدم مساوات اور معاشی و سیاسی جبر نے کبھی کوئی کامیاب انقلابی شکل اختیار کی؟ لے دے کے جنوبی و وسطی ہند کی چھوٹی موٹی کسان بغاوتیں اور اٹھارہ سو ستاون کا غیر مربوط غصہ ہی ملتا ہے مگر وہ بھی شمالی ہندوستان کی حد تک ۔ اور بعد ازاں اس غصے کو بھی کبھی تنگ نظر قوم پرستی اور کبھی عقیدے کی مفاداتی تشریح کا ٹیکہ لگا کر عقیدت و احترام کی قبر میں سلانے کی کوشش کی گئی۔

موجودہ دور میں یہی غصہ نکسل ازم، طالبانیت یا علاقائی بے چینی کی شکل میں سامنے آرہا ہے اور آئندہ بھی یہ غصہ ایسے ہی لچک دار دائروں میں گھومتا رہے گا اور برِصغیر کا نظام اپنی سماجی ، نسلی ، مذہبی ، نظریاتی ، جغرافیائی اور سیاسی ساخت کے سبب کچھ لے کچھ دے کے مفاداتی اصول پر ہی چلتا رہے گا۔

پاکستان میں تبدیلی پر سب متفق ہیں ۔یہاں پرانے اور نئے انقلابی بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن کیسا انقلاب اور انقلاب کے بعد کیسا نظام؟ اس سوال پر یا تو خاموشی چھا جاتی ہے یا پھر یہ سب ’جو جہاں کھڑا ہے اور جیسا جس کو دکھائی دے رہا ہے‘ کی بنیاد پر صورتِ حالات کا سہہ سمتی ( تھری ڈی ) حقیقی تجزیہ کرنے کے بجائے یک سمتی ( ون ڈائمینشل ) فلسفیانہ و الزامیہ گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔جس استحصالی و ظالمانہ نظام کی یہ سب ناک کاٹنا چاہ رہے ہیں اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ان انقلابیوں کی لمبی لمبی ناکیں اور ہمالیائی انائیں ہیں۔

کیا ایک شدید نظریاتی ، مذہبی ، لسانی ، معاشی ، سیاسی نفاق و منافقت کی دھند میں مبتلا کر دئیے جانے والے سماج میں ایسا کوئی پلیٹ فارم تعمیر ہوسکتا ہے جس پر جمع ہوکر بلوچ ، پشتون ، پنجابی ، سرائیکی ، سندھی اور اردو انقلابی ایک بنیادی متفقہ قومی تجزیے کی بنیاد پر ایک واضح انقلابی سمت دیکھ سکیں اور اس سمت کی جانب اپنی اناؤں اور طبیعت کے یک رخے پن کی پوٹلی گھر پر چھوڑ کر آگے بڑھ سکیں۔اگر یہ ممکن نہیں تو پھر انقلاب جنرل سٹور پر بیٹھ کر اپنی اپنی اسلامی ، جمہوری ، سوشلسٹ ، قومی ، علاقائی ، جہادی اور سیکولر مصنوعات کی خرید و فروخت کے سوا اور کیا ممکن ہے۔کثیر الجہتی نفاقی معاشروں میں شائد انقلاب کی راہ میں یہی بنیادی رکاوٹ ہوتی ہے۔

مگر شوق دا کوئی مُل نئیں لہذا انقلاب کی اصطلاح کے ساتھ بھی وہی ہورہا ہے جو غریب کی جورو کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ دو تولہ فرسٹریشن ، ایک پاؤ واویلا ، تین کلو سودے بازی اور چار کلو کارنر میٹنگز کو اگر دس لیٹر جذباتی پانی میں کچھ عرصے اونچی آنچ پر پکایا جائے تو لذیز انقلابی ڈش تیار ہو جائے گی۔ انقلابی باورچیوں کی ایسی کئی ڈشیں ہم نے یہاں کے سیاسی و سماجی چولہے پر پیندے سے لگتی دیکھی ہیں۔ اور دھیمی آنچ پر چڑھنے والے کئی ریڈیکل پکوان ادھ کچے پکے اترتے دیکھے ہیں۔

’ آمریت پسند جمہوریت نواز انقلابی‘

بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنی نفسیات میں نا تو پورے انقلابی ہیں نا پورے آمر اور نا جمہوریت پسند۔یہ سب دراصل ’ آمریت پسند جمہوریت نواز انقلابی‘ ہیں۔ان میں سے بیشتر بیک وقت شکاری کے ساتھ بھی دوڑ رہے ہیں اور خرگوش کا حوصلہ بھی بڑھا رہے ہیں۔ان میں سے کوئی ایک بھی ایجاد پسند انجینیر نہیں۔سب کے سب انقلاب آٹوز کے مستری ہیں۔یہ وہ ایکسٹراز ہیں جو اپنے تئیں ہیرو ہیں۔۔۔۔ان میں سے کئی خود اپنے ہی گماشتے ہیں۔۔۔۔

باقیوں میں سے کوئی انقلابی فرہاد بنا ایسی نہر کھودنے کی دعوت دے رہا ہے جس کی لمبائی خلفاءِ راشدین کے دور تک ہوگی اور پھر یہ دودھ اور شہد سے بھر جائے گی۔

کسی کا خیال ہے کہ سلطان راہی کی طرح اوئے جاگیردارا کا نعرہِ مستانہ بلند کرنے سے دھرتی ہلائی جاسکتی ہے۔

کوئی بذریعہ فون انقلاب بھیج رہا ہے تو کوئی ساشے میں انقلاب کی مارکیٹنگ افضل جان رہا ہے تو کوئی بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے طاغوتی قوتوں کو للکار رہا ہے اور کوئی چی گویرا کی تاریخی موٹر سائیکل کو مات دینے کے لئے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے عظیم لانگ مارچ کی رینٹ اے کار فور وھیلر پر سوار ہے۔

کوئی این جی او کے چھابے کو اپنے انقلابی سر پر اٹھائے دلکی چل رہا ہے اور پیچھے رھ جانے والا انقلاب بذریعہ سیمینار و ایس ایم ایس لانے میں مست ہے۔

کسی کا خیال ہے کہ حبیب جالب کے مصرعے پڑھ کر ڈائس ہلا دینے سے بات بن جائے گی تو کوئی فیض پر چھری چلا کر انقلاب کی دستی کاٹنا چاہ رہا ہے ۔ اور کسی کا منشور ہے کہ حق اچھا ، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا۔۔۔۔

بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنی نفسیات میں نا تو پورے انقلابی ہیں نا پورے آمر اور نا جمہوریت پسند۔ یہ سب دراصل ’آمریت پسند جمہوریت نواز انقلابی‘ ہیں۔ ان میں سے بیشتر بیک وقت شکاری کے ساتھ بھی دوڑ رہے ہیں اور خرگوش کا حوصلہ بھی بڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایجاد پسند انجینیر نہیں۔ سب کے سب انقلاب آٹوز کے مستری ہیں۔یہ وہ ایکسٹراز ہیں جو اپنے تئیں ہیرو ہیں۔۔۔۔ان میں سے کئی خود اپنے ہی گماشتے ہیں۔۔۔۔

ان دنوں میں مضافاتی علاقوں میں گھوم رہا ہوں۔ایک مقامی اخبار ہاتھ میں ہے ۔

’سمہ سٹہ کے عوام استحصالی نظام کو نیست و نابود کرکے ہی دم لیں گے۔صدر انجمنِ تاجران ۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔