’بینظیر جتنی سکیورٹی فراہم کی تو میں خوش‘

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 19:06 GMT 00:06 PST

پاکستان کے سابق فوجی حکمران اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے پاکستان واپس جا رہے ہیں جہاں ان کی پارٹی انتخابات میں حصہ لے کر تیسرے سیاسی متبادل کے طور پر موجودہ نظام کو تبدیل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ وطن واپسی پر کسی سے بھی رحم کی درخواست کریں گے اور نہ ہی معافی مانگیں گے تاہم انہوں نے ایک بار پھر اپنی وطن واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔

سنیچر کی شب کو امریکی شہر نیویارک میں اپنی پارٹی کے ایک جلسے کے بعد میڈیا کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ اگر انہیں اتنی سکیورٹی دی گئی جتنی انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو مہیا کی تھی تو انہیں خوشی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان واپسی پر اپنے خلاف مقدمات اور گرفتاری سمیت ہر طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن مجتبیٰ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ انہوں نے بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی کو قتل کروایا تھا، وہ کسی بھی قتل میں ملوث نہیں رہے لیکن لوگ جب علیحدگی کی بات کریں گے تو ریاست اپنا کام کرے گي۔

انہوں نے کہا کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس ان کی غلطی تھی اور حلفیہ دعویٰ کیا کہ لال مسجد کے واقعے میں کوئی بھی طالبات یا بچیاں ہلاک نہیں ہوئی تھیں۔

پاکستان کے سابق فوجی آمر نے ایک مقامی ٹی وی سٹوڈیو کے آڈیٹوریم میں سینکڑوں پاکستانی نژاد امریکیوں اور پاکستانی تارکین وطن مردوں اور عورتوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اب سنجیدگي سے بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ پاکستان میں موجودہ حالات کس طرف جا رہے ہیں اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

ضرورت پڑنے پر مخلوط حکومت

"انتخابات کے بعد وہ ضرورت پڑنے پر مخلوط حکومت بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے جلسے کے شرکاء کی طرف سے تحریک انصاف، طاہرالقادری اور ایم کیو ایم کے ممکنہ اتحادی کے طور پر نام تجویز کرنے پر کہا کہ کسی بھی پارٹی کا کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا اور اس کے بارے میں انتخابات کے بعد سوچا جائے گا۔ "

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توڑو یا بناؤ والی صورتحال ہے اور اگر عوام اب بھی بیدار نہیں ہوئے تو ملک مزید اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹی ملک میں موجودہ نظام اور سٹیٹس کو ختم کر کے تیسری سیاسی متبادل قوت کے طور پر سامنے آنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد وہ ضرورت پڑنے پر مخلوط حکومت بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے جلسے کے شرکاء کی طرف سے تحریک انصاف، طاہرالقادری اور ایم کیو ایم کے ممکنہ اتحادی کے طور پر نام تجویز کرنے پر کہا کہ کسی بھی پارٹی کا کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا اور اس کے بارے میں انتخابات کے بعد سوچا جائے گا۔

انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر پاکستان میں موجودہ سیاست پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جہموریت ڈھکوسلہ ہے جس میں نہ کوئی معشیت کی ترقی ہوئی ہے، نہ لوگوں کو نوکریاں ملی ہیں اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے بلکہ موجودہ حکومت کے پاس امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی کوئی پالیسی نہیں اور ان کا ارادہ بھی نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان اور کراچی کی صورتحال ملک کے سب سے بڑے مسائل میں سے ہیں۔

جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا کہ حکومت سے زیادہ کوئی طاقتور نہیں ہوتا لیکن حکومت ملک میں تشدد کو ختم کرنا نہیں چاہتی او نہ حکومت کی رٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہزارہ برادری کا قتل پورے پاکستان کا قتل اور بقول انکے مسلم امہ کا قتل ہے جو لوگ اسلام کے نام پر انہیں قتل کر رہے ہیں وہ اسلام یا ملک سے دشمنی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔