اسلام آباد: پارلیمان کے سامنے صحافیوں کا دھرنا

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 18:18 GMT 23:18 PST
فائل فوٹو: اسلام آباد میں صحافیوں کا احتجاج

صحافی تنظیموں نے پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا (فائل فوٹو)

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد، مختلف اخبارات میں ویج ایوارڈ کے عدم نفاذ، ملازمین کی چھانٹیوں اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف پیر کو پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا۔

صحافیوں کی ایک تنظیم ’فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ قتل ہونے والے صحافیوں کو سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی طرح معاوضہ دیا جائے۔

اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع شاہراہِ دستور پر پارلیمان کے سامنے صحافیوں نے احتجاجی کیمپ لگایا جس میں بیسیوں صحافی موجود تھے۔

اس احتجاجی کیمپ میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے متاثرہ علاقوں سے مقتول صحافیوں کے اہل خانہ اور تشدد کا نشانہ بننے والے بعض صحافی بھی شریک ہوئے۔

بلوچستان کے شہر تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں سخت زخمی ہونے والے صحافی جہانگیر اسلم بھی اس احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’مجھے نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں ماریں، تین سینے میں اور ایک بازو میں لگی۔ میں ڈھائی ماہ کراچی میں زیر علاج رہا اور دو بارہ تربت گیا تو پھر حملہ ہوا۔ میرے ادارے اے آر وائی یا حکومت نے کوئی مدد نہیں کی اور آج بھی پریشان ہوں۔‘

جہانگیر اسلم کی اہلیہ رخشندہ تاج بلوچ بھی صحافی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ انہیں بھی دھمکیاں ملی ہیں۔’ہم بلوچستان کے ایسے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں صحافی ہونا بہت بڑا جرم ہے اور کوئی بھی محفوظ نہیں۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے حکومت نے کچھ نہیں کیا۔‘

حال ہی میں کوئٹہ میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے صحافی سیف الرحمٰن کے ایک عزیز روحل بلوچ ان کی بڑی تصویر لیے پریشان نطر آئے۔‘سیف الرحمٰن کی بیوہ بیمار ہے اور ان کی مدد کے لیے صحافتی تنظیموں، حکومت اور سما ٹی وی والوں نے امداد کا وعدہ تو کیا لیکن کوئی وفا نہیں ہوا۔‘

"مجھے نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں ماریں، تین سینے میں اور ایک بازو میں لگی۔ میں ڈھائی ماہ کراچی میں زیر علاج رہا اور دو بارہ تربت گیا تو پھر حملہ ہوا۔ میرے ادارے اے آر وائی یا حکومت نے کوئی مدد نہیں کی اور آج بھی پریشان ہوں۔"

صحافی جہانگیر اسلم

صحافیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے لیکن صحافی ملک میں کہیں بھی محفوظ نہیں۔ کالعدم تنظیمیں ہوں یا مذہبی اور قوم پرست شدت پسند گروہ، لینڈ اور ڈرگ مافیا ہو یا پھر ریاستی ادارے، صحافیوں کی زندگی کو سب سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔

صحافیوں کے ایک رہنما سی آر شمسی نے کہا کہ حکومت آٹھویں ویج ایوارڈ کا اعلان کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اخبارات ہوں یا نجی ٹی وی چینلز کے مالکان وہ وعدے کے باوجود صحافیوں کی انشورنس کروانے کے وعدے پر عمل نہیں کر رہے۔

صحافیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بعض مقتول صحافیوں کے اہل خانہ کو امداد دینے کے جو وعدے کیے تھے ان پر تاحال عمل نہیں ہوسکا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت کے مطابق حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے بیس کروڑ روپے کے انڈاؤمینٹ فنڈ کا جو اعلان کیا تھا، اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے پاکستان کو دنیا کا ایک خطرناک ترین ملک قرار دے رکھا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں گذشتہ بارہ برس میں پچانوے صحافی قتل ہوچکے ہیں اور موجودہ حکومت کے دور میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد تیرہ ہے۔

رات کو وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے دھرنے کی جگہ پہنچ کر صحافیوں سے بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ تین سے چار روز کے اندر ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لیے کام شروع ہو جائے گا اور جلد ہی چئیر مین کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صحافیوں کے لیے فلاحی فنڈ میں ابتدائی طور پر پانچ کروڑ روپے پہلے ہی دیے جا چکے ہیں انہوں نے کہا ہلاک اور زخمی ہونے والے صحافیوں کے لیے معاوضے کے رقم کی جلد منظوری دی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔