ایل او سی پر تجارت اور بس سروس بحال

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 10:11 GMT 15:11 PST

بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پرگولہ باری کا تبادلہ رک جانے کے بعد پاکستانی حکام نے بیس دنوں کی معطلی کے بعد پیر سے لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور بس سروس بحال کردی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر اور تجارت کے لیے قائم ادارے کے سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد اسماعیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم ہوئی ہے، کچھ دنوں سے فائرنگ بھی نہیں ہوئی اس وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ (راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان) سفری سہولت اور تجارت بحال کریں۔

بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد اسماعیل کے مطابق فائرنگ کی وجہ سے لوگوں کے مال و جان کو خطرہ تھا جس کی وجہ سے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس اور تجارت معطل کرنا پڑی تھی۔

لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت پاکستان نے آٹھ جنوری سے پونچھ اور راولاکوٹ کے درمیان بس سروس اور تجارت معطل کر دی تھی۔

کئی دنوں تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں کے نتیجے میں تین پاکستانی جبکہ دو بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

پونچھ، راولاکوٹ بس سروس ہفتے میں ایک دن پیر کو چلتی ہے جبکہ منگل سے جمعے تک چار روز تجارت ہوتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے طریقے کار کے تحت ایک وقت میں ساٹھ مسافر کشمیر کے ایک حصے سے دوسری حصے میں جاسکتے ہیں ان میں وہ مسافر شامل نہیں ہوتے جو اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔

گذشتہ سال جون میں بھی لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس اور تجارت دو ہفتوں تک معطل رہی تھی۔

لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے مظفرآباد، سرینگر بس سروس اور تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد سنہ دو ہزار تین میں قیام امن کے عمل کا آغاز ہوا۔

اس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے متنازع ریاست جموں کشمیر میں اعتماد سازی کے کئی اقدامات کیے جن میں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان مظفرآباد، سرینگ، راولاکوٹ پونچھ کے درمیان بس سروس کے ساتھ ساتھ تجارت شروع کی گئی جبکہ وادی نیلم سے ایک مقام پر پیدل آر پار جانے کی سہولت دی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔