انتظامی زونز میں رد و بدل کے فیصلے پر تنقید

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

پہلے ہر زون کا انچارج ڈی آئی جی رینک کا افسر ہوتا تھا اور اب ایس ایس پی رینک کا افسر ہو گا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس ٹارگٹ کلنگز اور جرائم پر قابو پانے کے لیے انتظامی طور پر اضلاع کی حدود میں رد و بدل پر غور کر رہی ہے۔

توقع ہے کہ ایک یا دو روز میں پولیس کے نئے انتظامی زونز کو قانونی شکل دے دی جائے گی۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی بعض جماعتوں نے انتخابات سے پہلے مجوزہ انتظامی حدود میں رد و بدل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں بھتہ خوری، قتل و غارت گری اور بڑھتے ہوئے دیگر جرائم پر قابو پانے کے لیے انتظامی حدود میں رد و بدل زیر غور ہے جس کے تحت تین زونز کو تقسیم کر کے نئے زونز بنائے جائیں گے اور ہر زون کا سربراہ ایک ایس ایس پی رینک کا افسر ہوگا۔

اس سے پہلے ہر زون کا انچارج ڈی آئی جی رینک کا افسر ہوتا تھا۔

عام انتخابات سے پہلے پولیس کی نئی انتظامی تشکیل حزبِ اختلاف کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔

جماعت اسلامی، حزبِ اختلاف کی ان جماعتوں میں شامل تھی جنہوں نے کراچی میں سندھ الیکشن کمشنر کے دفتر کے سامنے تین روز تک دھرنا دیا اور اس یقین دہانی کے بعد ختم کیا کہ ووٹر فہرستوں کے تصدیقی عمل میں فوج شامل رہے گی۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی مجوزہ انتظامی حد بندیوں سے آئندہ عام انتخابات پر اثر پڑے گا اور اس موقع پر حدود میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔

ان کے بقول اس معاملے کو نئی آنے والی پارلیمینٹ، اسمبلیوں اور حکومت پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کیونکہ اس طرح جلد بازی میں جو چیزیں ہوتی ہیں ان کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوتے ہیں۔

محمد حسین محنتی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’اس طرح حکومت اپنا من مانا نظام بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدنیتی پر مبنی ہے‘۔

سندھ حکومت میں ساڑھے چار سال تک حکمراں اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل بشیر جان بھی محمد حسین محنتی کے موقف کی تائید کرتے ہیں کہ پولیس کی مجوزہ انتظامی تشکیل انتخابات پر اثر انداز ہوگی۔

ان کے بقول ’انتخابات میں دھاندلی اسی دن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک طویل عمل ہوتا ہے جس میں حلقہ بندیاں مرضی سے کی جاتی ہیں، تقرریاں مرضی سے کی جاتی ہیں، انتظامیہ میں ان کے افراد ہوتے ہیں اور اس کے بعد پھر ووٹنگ ۔۔۔ تو یہ تمام چیزیں جب ملتی ہیں تو اس کے باعث بوگس الیکشن ہو سکتا ہے‘۔

بوگس الیکشن

"انتخابات میں دھاندلی اسی دن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک طویل عمل ہوتا ہے جس میں حلقہ بندیاں مرضی سے کی جاتی ہیں، تقرریاں مرضی سے کی جاتی ہیں، انتظامیہ میں ان کے افراد ہوتے ہیں اور اس کے بعد پھر ووٹنگ ۔۔۔ تو یہ تمام چیزیں جب ملتی ہیں تو اس کے باعث بوگس الیکشن ہو سکتا ہے"

محمد حسین محنتی

انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں یہ جو حرکتیں ہو رہی ہیں یہ سندھ حکومت میں جو جماعتیں ہیں وہ شاید الیکشن کی تیاریاں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اچھا عمل نہیں ہے اور ہم اس کی تائید نہیں کرتے‘۔

ایک سوال پر کہ کیا حکومت نے اس سلسلے میں اے این پی کو اعتماد میں لیا ہے، بشیر جان کا کہنا تھا کہ جب ان کی جماعت حکومت میں شامل تھی اس وقت بھی ان کے ارکان اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا تھا اور اب تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ایسے فیصلے کرنے سے پہلے ان کی جماعت کو اعتماد میں لیا جائے۔

سندھ کی قومپرست جماعتیں کراچی کی پانچ اضلاع میں انتظامی تقسیم کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، سندھ یونائٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ حکومت کے اس فیصلے سے متفق نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں انتظامی طور پر پانچ کے بجائے آٹھ یا دس اضلاع ہونے چاہیے اور ہر ضلع کا سربراہ ایک ایس ایس پی کو ہی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول پہلے جس طرح اٹھارہ ٹاؤن بنائے گئے تھے وہ غیر فطری تھے تاہم اب جس انداز میں زونز بنائے جا رہے ہیں وہ بظاہر فطری ہیں۔

کراچی میں انتخابات سے پہلے ازسرِ نو حد بندیوں کی متحدہ قومی مومنٹ مخالفت کرتی چلی آئی ہے اور اس کا موقف ہے کہ آئین کے تحت حد بندیاں مردم شماری کے بغیر نہیں کی جا سکتیں لیکن دیگر جماعتیں حلقہ بندیوں کی رد و بدل کے حق میں ہیں۔

پولیس کی جانب سے نئے زونز بنائے جانے کی تجویز پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔