کراچی: فوج کے بغیر ووٹر فہرستوں کی تصدیق

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 09:46 GMT 14:46 PST

’باجی اسلام علیکم میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے سلسلے میں آیا ہوں، یہ گھر فاروق صاحب کا ہے، یہاں انگوٹھے کا نشان لگا دیں‘۔

چار خانوں میں ناموں کے سامنے انگوٹھے کا نشان لینے کے بعد سراج الدین دوسرے گھر کی جانب روانہ ہوجاتے ہیں، اکتیس جنوری ووٹر فہرستوں کے تصدیقی عمل کا آخری دن ہے۔ کراچی میں انہتر لاکھ ووٹروں کی تصدیق ہونی ہے۔

گھر گھر جاکر ووٹر فہرستوں کی تصدیق کا عمل سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا تھا کہ ووٹر فہرستوں میں کئی جعلی ووٹ بھی شامل ہیں اور حلقہ بندیاں درست نہیں ہیں، جس کے باعث حقیقی اور مساوی نمائندگی سامنے نہیں آتی۔

چھ سو رپے یومیہ اعزازیے پر کام کرنے والے محکمۂ تعلیم کے ہر استاد کو چار سے پانچ سو گھرانوں کے ووٹروں کی تصدیق کرنی ہوتی ہے، سراج الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کا ستر فیصد کام مکمل کر لیا ہے۔

" گھروں میں جاتے ہیں تو مرد حضرات موجود نہیں ہوتے، خواتین کہتی ہیں کہ مرد ملازمت پر گئے ہوئے ہیں کل آ جائیے گا، اس طرح بار بار جانا پڑتا ہے۔"

محکمۂ تعلیم کے استاد سراج الدین

سراج الدین نے اپنی مشکلات کو اظہار ان الفاظ میں کیا’ گھروں میں جاتے ہیں تو مرد حضرات موجود نہیں ہوتے، خواتین کہتی ہیں کہ مرد ملازمت پر گئے ہوئے ہیں کل آ جائیے گا، اس طرح بار بار جانا پڑتا ہے‘۔

ووٹر فہرستیں تصدیق کرنے والے عملے کے مطابق’فہرستوں میں دو کالم موجود ہیں، جن میں ایک تصدیق شدہ ووٹروں کے لیے، دوسرا غیر تصدیق شدہ یا عدم دلچسپی کا اظہار کرنے والے افراد کے بارے میں، عملے کا کہنا ہے کہ عدم دلچسپی کا اظہار کرنے والوں کی تعداد پانچ سے سات فیصد ہے‘۔

تصدیقی عمل میں شریک ایک اہلکار نے بتایا کہ وہ غیر تصدیق شدہ اور عدم دلچسپی کا اظہار کرنے والے شہریوں کے نام نادرا کو بھیجے ہیں لیکن وہ نام ان فہرستوں میں دوبارہ شامل کردیے جاتے ہیں۔

وسیم یوسف کراچی کے اولڈ ایریا میں تصدیقی عمل کے سپروائیزر ہیں، وہ سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔

’ پولیس، رینجرز یا فوج کے کسی ایک جوان کو ہر ملازم کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ اسی ایک ملازم نے ہر گھر جانا ہے، اس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے اور غیر حتمی ووٹر فہرستوں چھین لی جاتیں ہیں تو وہ غریب کیا کرسکتا ہے‘۔

وسیم یوسف کراچی میں پولیو ٹیموں پر حملے کا حوالہ دیتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ تو صحت کے لیے مہم تھی ووٹر فہرستوں کا تصدیقی عمل تو سیاسی نوعیت کا ہے جس میں سیاسی جماعتیں شامل ہوتی ہیں اس صورت حال میں ہر ملازم کے ساتھ کم سے کم ایک اہلکار تو ساتھ ہونا چاہیے۔

"فہرستوں میں دو کالم موجود ہیں، جن میں ایک تصدیق شدہ ووٹروں کے لیے، دوسرا غیر تصدیق شدہ یا عدم دلچسپی کا اظہار کرنے والے افراد کے بارے میں، عملے کا کہنا ہے کہ عدم دلچسپی کا اظہار کرنے والوں کی تعداد پانچ سے سات فیصد ہے"

ووٹر فہرستیں تصدیق کرنے والا عملہ

کراچی میں حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہ ہونے اور ووٹر فہرستوں کی تصدیق میں فوجی کی عدم موجودگی پر اپوزیشن جماعتوں نے ایک ہفتے تک الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دہرنا دیا، پیر کو ان جماعتوں کے رہنماؤں کو الیکشن کمشنر نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ ہر ٹیم کے ساتھ فوجی جوان موجود ہوں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما سلیم کا کہنا ہے کہ اب یہ احتجاج اسلام آباد میں جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری نے حکام جاری کیا تھا کہ کراچی میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق غلط ہوئی ہے اس لیے اسے دوبارہ کرایا جائے، اس عمل میں الیکشن کمیشن کے عملے کے ساتھ ساتھ فوج کا ایک اہلکار ہمراہ ہوگا لیکن اس پر عملد رآمد نہیں ہوا وہ ہی اسٹاف یہ کام سرانجام دے رہا ہے۔

تصدیقی عمل میں شریک عملے کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج ان کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطے میں ہے، انہیں ضرورت کی صورت میں طلب کیا جاسکتا ہے، جبکہ رینجرز اہلکار دفاتر کے باہر موجود ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔