گوادر پورٹ کی ذمےداریاں چین کو دینے کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 21:50 GMT 02:50 PST

امریکہ پہلے ہی پاکستان کو کہہ چکا ہے کہ ایرانی گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دوبارہ غور کرے

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے یہ بات بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جانب پائپ لائن بچھانے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

دوسری جانب صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت تمام بڑے منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بات ایرانی وفد سے ملاقات میں کی جس کی قیادت عالمی امور کے بارے میں رہبر اعلیٰ کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی کررہے تھے۔

یاد رہے کہ امریکہ پہلے ہی پاکستان کو کہہ چکا ہے کہ اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی ایرانی گیس پائپ لائن کے منصوبے پر دوبارہ غور کرے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی منصوبوں میں کسی بڑی سرمایہ کاری کی ایران کے جوہری پروگرام پر اپنی تشویش کی وجہ سے مخالفت کرتا ہے۔

وفاقی کابینہ نے بحیرہ عرب سے منسلک بندرگاہ گوادر کی انتظامی ذمےداریاں سنگاپور سے لے کر چین کو دینے کی منظوری بھی دی ہے۔

زیر تعمیر بندرگاہ کی تعمیر پر آنے والی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 250 ملین ڈالر لگایا گیا ہے جس کی 75 فیصد ادائیگی چین کرے گا۔

فی الحال اسے سنگاپور کی پی ایس اے انٹرنیشنل کمپنی چلارہی ہے تاہم اسے مکمل طور پر چلانے کیلیے مزید ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کابینہ نے آج گوادر بندرگاہ چلانے کی ذمے داریاں سنگاپور سے چین کی کمپنی اوورسیز پورٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہیں۔

انہوں نے منتقلی کیلیے کسی حتمی وقت کی نشاندہی کیے بغیر کہا کہ دونوں کمپنیوں میں اس حوالے سے معاملات طے ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سنگاپور کی کمپنی گوادر کو ہماری توقعات کے مطابق نہیں چلارہی تھی اور امید ظاہر کی کہ نئی انتظامیہ کے زیر انتظام بندرگاہ بہتر طریقے سے کام کرتے ہوئے ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔